خطبة اِلہامِیّة — Page 5
خطبة الهاميه 3 اردو ترجمہ الاعمال والعادة۔ثم يقولون مع کے مثیل ہیں۔اس کے باوجود وہ کہتے ہیں ذالك ان المسيح ينزل من که مسیح آسمان سے نازل ہوگا اور درحقیقت السماء۔وهو ابن مريم رسول الله وه ابن مریم رسول اللہ ہو گا نہ کہ اصفیاء میں في الحقيقة لا مثيله من الاصفياء۔سے اس کا کوئی مثیل۔گویا کہ انہوں نے فكأنهم حسبوا هذه الامة اردء اس امت کو تمام امتوں میں سے رڈی اور الامم و اخبثهم فانهم زعموا ان ناپاک ترین خیال کیا ہے کیونکہ وہ یہ عقیدہ المسلمين قوم ليس فيهم احد اپنائے بیٹھے ہیں کہ مسلمان ایسی قوم ہیں جن يقال له انه مثیل بعض الاخیار میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں کہ اسے سابقہ نیک السابقين۔واما مثيل الاشرار لوگوں کا مثیل کہا جا سکے۔ہاں شریروں کے فكثير فيهم ففكروا فيه يا معشر مثیل ان میں بکثرت ہیں پس اے عاقلمین العاقلين۔ثم ان مسئلة نزول کے گروہ اس میں غور کرو۔پھر عیسی نبی اللہ عیسی نبی الله كانت من کے نزول کا مسئلہ نصرانیوں کی اختراع ہے اختراعات النصرانيين واما القرآن اور جہاں تک قرآن کا تعلق ہے تو اُس نے فتوفاه والـحـقـه بالميتين۔وما اُسے وفات یافتہ قرار دیا اور فوت شدگان اضطرت النصارى الى نحت هذه سے ملایا ہے۔اس لغو عقیدہ الوہیت مسیح کو العقيدة الواهية الا فى ايام تراشنے پر عیسائی مایوسی اور موعودہ نصرت اليأس و قطع الامل من سے نا اُمیدی کے وقت ہی مجبور ہوئے۔النصرة الموعودة۔فان اليهود کیونکہ یہود جب انہیں رسوا ہوتے اور كانوا يسخرون منهم آفات میں پھنسے دیکھتے تھے تو اُن کا تمسخر ويضحكون عليهم ويؤذونهم اڑاتے اور اُن پر ہنستے اور طرح طرح کے بانواع الكلمات عندما رَأَوُا كلمات سے انہیں تکلیف دیتے تھے۔کیونکہ وہ خذلانهم وتقلبهم فى الأفات۔کہتے تھے کہ تمہارا وہ صحیح کہاں گیا جو یہ سمجھتا تھا