دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 596
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 596 1974ء کے فیصلہ کا منطقی انجام اب 2012ء میں پاکستان کے جو حالات ہیں وہ سب پر واضح ہیں۔تنگ نظری اور تعصب کے جن راستوں پر جو سفر 1974ء میں شروع کیا گیا تھا، اس نے آج ملک اور قوم کو ایک بھیانک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔یہ عمل صرف احمدیوں تک محدود نہیں رہا۔پچھلے چند سالوں میں وہ خوفناک مناظر دیکھنے میں آئے جن کا 1974ء میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔مسلمانوں نے ایک دوسرے کا خون بہایا۔مساجد میں نمازیوں کو شہید کیا گیا۔حضرت داتا گنج بخش جیسے بزرگوں کے مزار میں بھی دھماکے کئے گئے۔نہ عام آدمی محفوظ رہا اور نہ بڑے بڑے لیڈر محفوظ رہے۔1974ء میں ملک کے وزیر اعظم کی صاحبزادی اور ملک کی سابق وزیر اعظم بھی اس قتل و غارت کا نشانہ بنیں۔ملک میں بغاوت کی فضا قائم کر دی گئی۔عملا بعض علاقوں پر حکومت پاکستان کی عملداری ختم کر دی گئی۔حتی کہ ملک کے دارالحکومت میں بھی بغاوت کھڑی کرنی کی کوشش کی گئی جسے کئی روز کے آپریشن کے بعد ختم کیا گیا۔دہشت گردوں نے خود پاکستان کی فوج کو اور ان کے مراکز کو بھی بار بار نشانہ بنایا یہاں تک کہ ایک روز پاکستان کے شہریوں نے یہ روح فرسا خبر بھی سنی کہ دہشت گردوں نے پاکستان کی بری افواج کے ہیڈ کوارٹر پر بھی حملہ کر دیا ہے۔ہر پڑھنے والے کے ذہن میں یہ سوال اُٹھے گا کہ ایسا کیوں ہوا کہ مسلمان ایک دوسرے کا خون بہانے لگ گئے اور پاکستان کو پوری دنیا میں ایک تماشہ بنادیا گیا؟ کیا اس بھیانک عمل کا فتاویٰ تکفیر سے بھی کوئی تعلق ہے؟ پوری دنیا میں اس موضوع پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور آئندہ بھی لکھا جائے گا۔ہم ان میں سے صرف ایک تحقیق کی مثال پیش کرتے ہیں۔یہ تحقیق سید سلیم شہزاد صاحب کی کتاب Inside Al-Qaeda and Taliban کی صورت میں پوری دنیا میں شہرت پاچکی ہے۔اس تحقیق کی پاداش میں سید سلیم شہزاد صاحب کو بھی نامعلوم قاتلوں نے بے رحمی سے قتل کر دیا۔