دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 247 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 247

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ! 247 لیکن بعد کی کارروائی سے یہی واضح ہوتا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب یا یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ سوالات کرنے والی ٹیم Reasoning کا طریقہ کار نہیں اپنانا چاہتی تھی۔اس سے پہلے بھی یہ ذکر آ چکا ہے کہ خود سپیکر اسمبلی نے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ جو حوالہ جات پیش کیے جاتے ہیں، ان کو ڈھونڈنے میں آدھا آدھا گھنٹہ لگ جاتا ہے۔لیکن اب بھی یہی حال تھا کہ یا تو حوالے صحیح پیش ہی نہیں ہوتے تھے یا جب ان پر بات شروع ہوتی تو یہ صاف نظر آ جاتا کہ یا تو اس حوالہ کا سیاق و سباق بھی پڑھنے کی کوشش نہیں کی گئی یا پھر اس سوال کو اُٹھانے والوں میں یہ مضمون سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں پائی جاتی تھی۔چند مثالیں پیش ہیں۔بحث کے دوران اٹارنی جنرل صاحب نے فرمایا کہ الفضل 26 / جنوری 1915ء کا حوالہ ہے مرزا بشیر الدین محمود کا ہے: مسیح موعود کو احمد نبی اللہ تسلیم نہ کرنا۔آپ کو امتی قرار دینا۔امتی گروہ سمجھنا۔گویا آنحضرت صلی ای ایم سید المرسلین خاتم النبیین ہیں کو امتی قرار دینا امتوں میں داخل کرنا ہے کفر عظیم ہے اور کفر در کفر ہے۔“ اس حوالہ کو پڑھتے یا یوں کہنا چاہئے کہ ایجاد کرتے ہوئے اٹارنی جنرل صاحب کو یہ بھی خیال نہیں آیا کہ ساری عبارت مہمل ہے اس کا مطلب ہی کچھ نہیں بنتا۔بہر حال اس کے جواب میں حضور نے اس بات کی نشاندہی فرمائی کہ یہ فقرہ تو بظاہر ٹوٹا پھوٹا لگتا ہے۔لیکن یحییٰ بختیار صاحب پھر بھی نہیں سمجھ پائے اور کہا کہ میں پھر پڑھ دیتا ہوں۔اس پر حضور نے ارشاد فرمایا کہ میں چیک کروں گا۔یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس حوالہ کے متعلق کچھ گو مگو کی کیفیت میں رہے۔کبھی یہ حوالہ 26 تاریخ کا بن جاتا اور کبھی 29/ جنوری کا۔اس کا ذکر تو بعد میں آئے گا لیکن یہاں پر یہ بتاتے چلیں کہ یہ حوالہ بھی جعلی اور خود ساختہ تھا۔