دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 238
238 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری یہاں پر اٹارنی جنرل صاحب صحیح الفاظ پڑھنے کی بجائے کوئی اور الفاظ پڑھ رہے تھے۔وہ نہ صرف یہ کہ صحیح عبارت نہیں پڑھ رہے تھے بلکہ ایک نامکمل عبارت پڑھ رہے تھے۔اصل عبارت کو پڑھنے سے بات واضح ہو جاتی ہے۔"حقیقۃ الوحی " کا متعلقہ حوالہ پیش ہے۔وو۔اتمام حجت کا علم محض خدا تعالیٰ کو ہے۔ہاں عقل اس بات کو چاہتی ہے کہ چونکہ لوگ مختلف استعدا د اور مختلف فہم پر مجبول ہیں اسلئے اتمام حجت بھی صرف ایک ہی طرز سے نہیں ہو گا۔پس جو لوگ بوجہ علمی استعداد کے خدا کی براہین اور نشانوں اور دین کی خوبیوں کو بہت آسانی سے سمجھ سکتے ہیں اور شناخت کر سکتے ہیں وہ اگر خدا کے رسول سے انکار کریں تو وہ کفر کے اول درجہ پر ہونگے اور جو لوگ اس قدر فہم اور علم نہیں رکھتے مگر خدا کے نزدیک اُن پر بھی اُن کے فہم کے مطابق حجت پوری ہو چکی ہے اُن سے بھی رسول کے انکار کا مواخذہ ہو گا مگر بہ نسبت پہلے منکرین کے کم۔بہر حال کسی کے کفر اور اس پر اتمام حجت کے بارے میں فرد فرد کا حال دریافت کرنا ہمارا کام نہیں ہے یہ اُس کا کام ہے جو عالم الغیب ہے۔ہم اس قدر کہہ سکتے ہیں کہ خدا کے نزدیک جس پر اتمام حجت ہو چکا ہے اور خدا کے نزدیک جو منکر ٹھہر چکا ہے وہ مواخذہ کے لائق ہو گا۔ہاں چونکہ شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے اس لئے ہم منکر کو مومن نہیں کہہ سکتے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مواخذہ سے بری ہے اور کافر منکر کو ہی کہتے ہیں کیونکہ کافر کا لفظ مومن کے مقابل پر ہے اور کفر دو قسم پر ہے۔(اول) ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔(دوم) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اُس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کے کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں کیونکہ جو شخص باوجود شناخت کر لینے کے خدا اور