دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 73
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 73 میں ہے۔“ ”آپ کا تار ملا۔آپ کے اور مسلمانانِ ہند کے صحیح خیالات کا شکریہ۔۔۔۔۔۔آخری فیصلہ تمام دنیائے اسلام کے ہاتھ ( مولانا محمد علی آپ بیتی اور فکری مقالات ص 228 مرتبہ سید شاہ محمد قادری ناشر تخلیقات) مئی 1926ء میں ہندوستان سے ایک وفد مکہ مکرمہ روانہ ہوا تا کہ وہاں پر سلطان عبد العزیز ابن سعود کی صدارت میں منعقد ہونے والی مؤتمر عالم اسلامی میں شرکت کر سکے۔اس وفد کی صدارت سید سلمان ندوی کر رہے تھے اور اس کے ممبران میں مولانا محمد علی جوہر ، مولانا شوکت علی صاحب، مولوی شبیر عثمانی، مفتی کفایت اللہ، عبد الحلیم ، احمد سعید ، شعیب قریشی ، محمد عرفان، ظفر علی خان صاحب وغیرہ شامل تھے۔یہ وفد ہندوستان سے روانہ ہوا اور حجاز پہنچا۔بہت سے لوگ جن میں مولانا محمد علی جوہر بھی شامل تھے یہ امید رکھتے تھے کہ ابن سعود نے حجاز پر قبضہ تو کر لیا ہے لیکن وہ اس مقدس خطے پر اپنی موروثی بادشاہت قائم کرنے کی بجائے یہاں پر تمام عالم اسلام کے مشورے سے ایک علیحدہ نظام حکومت قائم کریں گے اور سلطان عبد العزیز ابن سعود نے اپنی ایک تار میں بھی اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ حجاز کے خطے میں تمام عالم اسلام کے مشورے سے ہی ایک نظام حکومت قائم کیا جائے گا لیکن وہاں پہنچ کر جو آثار دیکھے تو یہ سب امیدیں دم توڑنے لگیں۔سلطان عبد العزیز ابنِ سعود بھی حجاز پر اپنی موروثی ملوکیت قائم کر رہے تھے۔چنانچہ وہاں پہنچ کر کیا ہوا اس کے متعلق رئیس احمد جعفری اپنی کتاب ”سیرت محمد علی میں تحریر کرتے ہیں:۔” جب محمد علی آمادہ ہوئے تو یہ تجویز ہوئی کہ ایک وفد بھی خلافت کمیٹی کی طرف سے حجاز بھیجا جائے وہ موتمر اسلام میں شرکت کرے اور خلافت کمیٹی کا نظریہ پیش کرے اور سلطان ابن سعود کو ان کے مواعید یاد دلائے۔مولاناسید سلمان ندوی صدر وفد مقرر ہوئے۔مسٹر شعیب قریشی سیکریٹری اور علی برادران ممبر ، اس طرح یہ وفد موتمر میں شرکت کے لئے حجاز مقدس روانہ ہو گیا۔محمد علی کی صحت یہیں سے خراب تھی، وہاں پہنچے تو آب و ہوا کی ناموافقت کی وجہ سے علیل ہو گئے اور بائیں حصہ جسم خفیف سافالج کا حملہ بھی ہوا لیکن وہ ان چیزوں کو خاطر میں نہیں لائے اور اپنا کام برابر پورے استقلال سے جاری رکھا۔موتمر میں عالم اسلام کے اکثر نمائندے شریک ہوئے تھے، خود سلطان ابنِ سعود نے موتمر کا افتتاح کیا تھا۔اکثر نمائندے "جلالۃ الملک" کے جلال و جبروت سے متاثر و مرعوب تھے لیکن محمد علی کا ایک حق گو وجود ایسا تھا جو خدم و حشم ، جاہ و