دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 59 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 59

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 59 59 کوئی راہنما منتخب کرے اور پوری اسلامی دنیا کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں ہو اور اس کام کے اہل میری نظروں میں امام الحرمین ، خادم الحرمین پاسبانِ حرمین والی مملکت سعودی عرب جلالۃ الملک فیصل معظم بن عبد العزیز آل سعود ایدہ اللہ و حفظہ کی شخصیت ہے کیونکہ ان کی مومنانہ بصیرت اور عمیق نظر پوری دنیا کے مسائل پر احاطہ کئے ہوئے ہے اور پھر جنرل عیدی امین نے یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ پاکستان میں منعقد ہونے والی اسلامی سربراہی کا نفرنس میں یہ فیصلہ کیا جانا چاہئے اور یہ کہ میں اس کا نفرنس میں مسلم علمائے دین کے سامنے یہ تجویز رکھوں گا۔اس کے بعد انہوں نے کئی مرتبہ مختلف مواقع پر اس بات کا اظہار بھی کیا اور پھر اس کا نفرنس میں اور بہتر اور مفید تجاویز کے علاوہ اسے بھی پیش کیا گیا مگر ہمیں حیرت اور دکھ ہے کہ ان کی اس معقول بات پر کسی کو توجہ دینے کی توفیق نصیب نہ ہوئی اور یہ ممکن بھی کیسے تھا کہ جس کا نفرنس پر یہودیوں، کمیونسٹوں اور قادیانیوں کا سایہ اوّل تا آخر ہو کوئی ایسی بات کیونکر عمل کا قالب اختیار کر سکتی ہے جو اسلامیانِ عالم کی بھلائی کی ہو۔“ المنبر 29 / مارچ 1974ء صفحہ آخر ) س رطب و یابس سے ظاہر ہے کہ جو بھی ہاتھ شاہ فیصل کو عالم اسلام کا خلیفہ بنانے کے لئے زور لگارہے تھے انہیں ابھی اس میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی تھی۔اور وہ اس مقصد کے لئے ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے جماعت احمدیہ کے خلاف لوگوں کے ذہن میں زہر گھول رہے تھے تاکہ اس نفرت کو آڑ بنا کر اپنے مقاصد حاصل کئے جاسکیں۔اور لوگوں کو یہ باور کرایا جاسکے کہ اگر عالم اسلام ایک خلیفہ کے ہاتھ پر جمع نہیں ہو پارہا تو یقینا یہ قادیانیوں کی سازش ہے۔یہ ایک دو جریدوں سے چند مثالیں دی گئی ہیں۔جن کو پڑھنے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اس سازش کا رخ کس طرف تھا اور اس کے پیچھے کیا مقاصد تھے۔ہم نے اس اہم مرحلہ کے بارے میں دوسری طرف کا نقطہ نظر معلوم کرنے کی کوشش بھی کی۔چنانچہ جب اس امر کا ذکر ڈاکٹر مبشر حسن صاحب سے انٹرویو کے دوران کیا اور ان سے سوال پوچھا کہ یہ کس طرح ہوا کہ اسلامی سر براہی کا نفرنس کے موقع پر جماعت احمدیہ کے خلاف پراپیگینڈا کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ میرا نہیں خیال کہ عزیز احمد یا ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے یہ جان کر کیا گیا تھا۔میر اخیال ہے کہ وہ اسے روک نہیں سکتے تھے۔چونکہ بھٹو صاحب پاکستان کی تاریخ کے ایک مضبوط وزیر اعظم سمجھے جاتے ہیں اس لئے ہمارے لئے یہ بات تعجب انگیز تھی۔چنانچہ ہم نے پھر ان سے یہ سوال کیا ?They were helpless ( وہ مجبور تھے ؟)۔اس پر مبشر حسن صاحب نے پھر واضح طور پر کہا