دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 558
558 جب دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری مانو۔اور خود روس کے مشرقی اور مغربی حصے کی ترقی میں بہت فرق ہے۔حضور نے اپنا مشاہدہ بیان فرمایا کہ حضور 1967ء میں یورپ کے دورہ پر جاتے ہوئے کچھ دیر کے لئے ماسکو کے ایئر پورٹ پر رکے تو دیکھا کہ وہاں ایک مردنی اور پژمردگی چھائی ہوئی ہے ، غذائی قلت کے آ ثار صاف نظر آ رہے تھے۔کوئی بشاشت نہیں تھی کوئی مسکراہٹ نہیں تھی۔انہوں نے اپنے ملک میں جو کام کیا وہ تو کیا لیکن وہ جو نہیں کر سکے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے لوگوں میں بشاشت نہیں پیدا کر سکے۔اس کے ساتھ ہی حضور نے ارشاد فرمایا کہ چین ایک بڑی قوت بن کر ابھر رہا ہے اور چینیوں نے جو نظام اپنے لئے منتخب کیا ہے اس میں وہ زیادہ سمجھداری اور عقلمندی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔(23)۔آئندہ چند دہائیوں میں دنیا کی آنکھ نے مشاہدہ کیا کہ یہ پیشگوئی حرف بحرف پوری ہوئی جیسا کہ حضور نے فرمایا تھا کمیونزم کی ناکامیاں سب کے سامنے آگئیں اور سوویت یونین بکھر کر رہ گیا اور مشرقی یورپ سے بھی کمیونزم کا نظام ختم ہو گیا۔اور اس کے برعکس چین کے نظام نے بروقت اپنے اندر کچھ تبدیلیاں پیدا کر لیں اور چین ایک بڑی صنعتی قوت کے طور پر سامنے آیا۔اس کے بعد بہت سے خطبات میں حضرت خلیفة المسیح الثالث نے جماعت کی راہنمائی فرمائی کہ پاکستان کے آئین میں اس ترمیم پر جماعتِ احمدیہ کا ردِ عمل کیا ہونا چاہئے۔جب ہم ان تمام خطبات اور تقاریر کو پڑھتے ہیں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ جماعتِ احمدیہ کے ردِ عمل کا حتمی اعلان حضرت خلیفة المسیح الثالث” نے 1975ء کے جلسہ سالانہ کے افتتاحی خطاب کے دوران کیا تھا۔جب یہ جلسہ شروع ہوا اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " سٹیج پر تشریف لے آئے تو حسب سابق مشہور احمدی شاعر جناب ثاقب زیروی صاحب اپنی نظم ترنم سے سنانے کے لئے آئے۔خاکسار کو خود بھی یہ لمحے یاد ہیں۔نظم کا شروع ہونا تھا کہ ایک سماں بندھ گیا۔اس نظم کا پہلا شعر تھا : وہ جو گرد سی تھی جمی ہوئی وہ جبیں سے ہم نے اتار دی شب غم اگر چه طویل تھی شب غم بھی ہنس کے گزار دی اس نظم کے کچھ اور اشعار یہ تھے