دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 557
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 557 اس موقع پر جب جماعت احمدیہ کے مخالفین بڑے طمطراق سے یہ دعوے کر رہے تھے کہ اب ہم اس جماعت کو ختم کر دیں گے۔حضور نے یہ پیشگوئی فرمائی : وو جنہوں نے علی الاعلان کہا کہ وہ زمین سے خدا کے نام کو اور آسمانوں سے اس کے وجود کو مٹا دیں گے۔خدا نے ہمیں کہا تم ان کے لئے بھی دعائیں کرو۔اس لئے ہم ان کی ہدایت کے لئے بھی دعائیں کرتے ہیں کیونکہ وہ لوگ خدا کے حقیقی پیار سے محروم ہیں۔دنیا کی یہ عارضی ترقیات تو کوئی معنی نہیں رکھتیں۔انسان نے پہلی دفعہ تو یہ ترقی نہیں کی۔اصطلاحاً بڑے بڑے فراعنہ دنیا میں پیدا ہوئے اور ان میں ایک وہ بھی تھا جس کا نام بھی فرعون تھا۔جس کی حکومت بڑی شاندار اور مہذب کہلاتی تھی۔دنیا میں اس نے بڑا رعب قائم کیا مگر کہاں گئے وہ لوگ؟ اور کہاں گئیں سرمایہ دارانہ حکومتیں ؟ ایک وقت میں سرمایہ دار دنیا پر چھائے ہوئے تھے اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ انسان کے اوپر سوائے سرمایہ داری کے اور کوئی چیز حکومت نہیں کر سکتی وہ پیچھے چلے گئے۔دوسرے نمبر پر کمیونزم آگیا۔یہ بھی پیچھے چلا جائے گا۔صدیوں کی بات نہیں۔۔۔در جنوں سالوں کی بات ہے کہ اشتراکی نظام بھی پیچھے چلا جائے گا اور پھر دوسری طاقتیں آگے آجائیں گی اور ایک وقت میں وہ بھی پیچھے چلی جائیں گی۔پھر خدا اور اس کا نام لینے والی جماعت ، حضرت محمد مصطفے صلی کی کمی کی طرف منسوب ہونے والی جماعت ، قرآنِ کریم کے احکام کا سکہ دنیا میں قائم کرنے والی جماعت، اسلام کا جھنڈا دنیا کے گھر گھر میں گاڑنے والی جماعت آگے آئیگی اور پھر اس دنیا میں اخروی جنت سے ملتی جلتی ایک جنت پیدا ہو گی اور ہر انسان کی خوشی کے سامان پیدا کئے جائیں گے اور تلخیاں دور کر دی جائیں گی۔“ (22) جہاں تک عالمی منظر پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کے متعلق اس پیشگوئی کا تعلق ہے تو اس ضمن میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت خلیفة المسیح الثالث نے ۱۹۷۲ء کی مجلس شوری سے خطاب کرتے ہوئے بھی یہ تجزیہ بیان فرمایا تھا کہ اشتراکیت ناکام ہو چکی ہے۔انہوں نے انسانیت کی خدمت کی آواز تو بلند کی لیکن وہ ابھی تک ایسا کوئی نظام روس میں قائم نہیں کر سکے جس میں انہوں نے روس کے مفادات قربان کر کے دنیا کے ممالک کی بھلائی کی کوشش کی ہو۔وہ دوسرے ممالک کو Dictate کرنا چاہتے ہیں کہ جو ہم کہتے ہیں تم وہ