دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 466 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 466

466 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جو سوالات شروع ہوئے تو وہ انہی سوالات کا تکرار تھا جو پہلے بھی کئی دفعہ ہو چکے تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب اس موہوم امید پر انہیں دہرا رہے تھے کہ شاید جوابات میں کوئی قابل گرفت بات مل جائے۔اعتراض اُٹھانے والوں نے اپنی طرف سے یہ غیر متعلقہ اور خلاف واقعہ اعتراض تو اُٹھا دیا تھا کہ احمدیوں نے ہمیشہ خود کو مسلمانوں سے ہر طرح علیحدہ رکھا ہے لیکن جب حقائق سنائے گئے تو یہ ان کے لئے ناقابلِ برداشت ہو رہا تھا۔جب مغرب کے وقفہ کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو مولوی عبدالحق صاحب نے ان الفاظ میں اپنے دکھڑے رونے شروع کئے۔جی گزارش یہ ہے کہ کل دو گھنٹے تقریبا اس نے تقریر کی اور آج بھی۔وہ تو اپنی تاریخ پیش کر رہے ہیں یا ریکارڈ کرا رہے ہیں۔ہمارا تو اٹارنی جنرل صاحب کا یہ سوال تھا کہ انگریزوں کی وفاداری کی جو تم نے پیش کیا ہے تو اس کی کیا وجہ ہے ؟ یا مسلمانوں کو تم کافر اور پکا کافر کہتے ہو ، جنازے کی نماز میں شرکت نہیں کرتے ،شادی نہیں کرتے ،عبادت میں شریک نہیں ہوتے۔اب وہ کہتے ہیں ہم نے مسلمانوں کے ساتھ نہیں کہا۔یہ تو ایسا ہے کہ جیسا ایک شخص کسی کو کہے ” یہ چیز کیا ہے ؟“ وہ کہتا ہے ”کتا“۔اب وہ کہتا ہے میں پانی بھی اس کو دیتا ہوں، روٹی بھی دیتا ہوں ، جگہ بھی دیتا ہوں۔مقصد تو اصل وہی ہے کہ جو چیز ان سے پوچھی جائے ہمارے اٹارنی جنرل صاحب اس کا جواب دیں اور بس۔۔66 مولوی صاحب کا شکوہ مضحکہ خیز ہونے کے علاوہ نا قابل فہم بھی تھا۔نہ معلوم بیچارے کیا کہنا چاہتے تھے؟ ایک سوال یہ دہرایا گیا کہ باؤنڈری کمیشن کے سامنے جماعت نے اپنا میمورنڈم کیوں پیش کیا؟ جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ برصغیر کی آزادی کے وقت صوبہ پنجاب کی تقسیم کے لئے جو کمیشن قائم ہوا تھا اس کے روبرو جماعت احمدیہ کا ایک میمورنڈم بھی پیش ہوا تھا۔اس کا کچھ جواب پہلے ہی آچکا ہے کہ ایسا مسلم لیگ کی