دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 27
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری آئین میں ختم نبوت کا حلف نامہ 27 27 1971ء کی جنگ کے نتیجہ میں پاکستان دو لخت ہو گیا۔صدر یحییٰ خان نے استعفیٰ دے دیا اور بھٹو صاحب نے ملک کے صدر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے ملک کا نظم و نسق سنبھال لیا۔اب ملک کے آئین کی تشکیل کا مسئلہ در پیش تھا۔مستقل آئین کی تشکیل میں تو کچھ وقت لگنا تھا، اس دوران ملکی انتظامات چلانے کے لیے قومی اسمبلی نے ایک عبوری آئین کی منظوری دی اور مستقل آئین کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ایک 25 رکنی کمیٹی بنائی گئی، اس کمیٹی کے سربراہ وزیر قانون محمود علی قصوری صاحب تھے۔لیکن کچھ عرصہ بعد محمود علی قصوری صاحب نے اختلافات کی وجہ سے وزارت اور اس کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا اور عبد الحفیظ پیر زادہ صاحب نے اس کمیٹی کی صدارت سنبھال لی۔کمیٹی میں اپوزیشن کے کئی ایسے اراکین شامل تھے جو جماعت احمدیہ کی مخالفت میں پیش پیش رہے تھے۔جماعتِ اسلامی کے پروفیسر غفور احمد صاحب، جمعیت العلماء اسلام کے قائد مفتی محمود صاحب، جمعیت العلماء پاکستان کے شاہ احمد نورانی صاحب اس کے ممبر تھے۔ان کے علاوہ میاں ممتاز دولتانہ صاحب اور سردار شوکت حیات صاحب بھی اس کے ممبر تھے۔دولتانہ صاحب 1953ء میں جماعت احمدیہ کی مخالفت کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتے رہے تھے۔اور حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے تحدیث نعمت“ میں بیان فرمایا ہے کہ جب وہ وفاقی کابینہ میں وزیر خارجہ تھے، اس وقت سردار شوکت حیات صاحب بھی دولتانہ صاحب کے ساتھ مل کر مرکزی حکومت پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ ظفر اللہ خان کو اس عہدے سے ہٹادیا جائے۔بعد میں سامنے آنے والے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مرحلہ پر جب کہ یہ کمیٹی آئین کی تشکیل کا کام کر رہی تھی ان دنوں میں بھٹو صاحب اپنے سیاسی مخالفین یعنی جماعت اسلامی کے ساتھ گفت و شنید کر رہے تھے۔ایک صحافی مصطفے صادق جو روزنامہ وفاق کے ایڈیٹر بھی رہے ہیں، کے مطابق پہلے پنجاب کے گورنر غلام مصطفے کھر صاحب نے ان کے سامنے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے اندر اشتراکی اور قادیانی خطرہ بنے ہوئے ہیں اور ان سے انہیں خطرہ ہے۔یہ بات تو خلاف عقل ہے کہ امن پسند احمدیوں سے کسی کو خطرہ تھا۔حقیقت یہ تھی کہ اپنی سیاسی ساکھ بڑھانے اور اپنے سیاسی دشمنوں کو رام کرنے کے لئے احمدیوں کے جائز حقوق غصب کرنے کی تمہید باندھی جارہی تھی۔مصطفے صادق