دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 253
253 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 7/ اگست کی کارروائی جب 7/ اگست کی کارروائی شروع ہوئی تو بات ان حوالہ جات سے شروع ہوئی تھی جو گزشتہ روز پڑھے گئے تھے۔سوالات کرتے ہوئے جو حوالہ جات پیش کیے جا رہے تھے یا یوں کہنا مناسب ہو گا کہ جن کو پیش کرنے کی کوشش کی جارہی تھی وہ عجیب افرا تفری کا شکار تھے۔اٹارنی جنرل صاحب نے حضور سے کہا کہ جو وو حوالے میں نے کل پڑھے تھے آپ نے ان کی تصدیق کر لی ہے؟ اس پر حضرت خلیفة المسیح الثالث" نے فرمایا " ایک ایک کولے لیتے ہیں جو 29 / جنوری 1915ء کا آچکا ہے یہ پڑھ کر سنا دیجئے۔میں Verify کر دیتا ہوں۔“ اٹارنی جنرل صاحب نے فرمایا کہ کل جو آخر میں پڑھا تھا وہ پہلے پڑھتا ہوں۔ایک روز پہلے انہوں نے ایک حوالہ پیش کیا تھا اور کتاب کا نام ”شریعت ِ نبوت“ بیان فرمایا تھا۔آج اس حوالہ کی کتاب کا نام اور صفحہ نمبر سب نیا جنم لے چکے تھے۔اب انہوں نے یہ عبارت پڑھی ”اسلامی شریعت نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت مرزا غلام احمد ہر گز مجازی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔(حقیقۃ النبوت صفحہ 174 )۔اب اس بحث سے ان کا مقصد یہ تھا کہ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حقیقی نبی لکھا گیا ہے اس لیے اس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔کیونکہ جب ایک روز قبل یہ حوالہ پیش کیا گیا تھا تو اس وقت عی اور غیر شرعی انبیاء کا تذکرہ چل رہا تھا۔پہلی تو یہ بات قابل غور ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام، حضرت سلیمان ، حضرت ایوب ، حضرت یعقوب اور بہت سے دوسرے انبیاء شریعت نہیں لائے تھے۔تو کیا حقیقی نبی نہیں تھے ، کیا ان کو غیر حقیقی انبیاء کہہ کر ان کی شان میں گستاخی کی جائے گی یا اگر کسی بھی لحاظ یہ کہا جائے کہ یہ حقیقی انبیاء تھے تو اس کا یہ مطلب لیا جائے گا کہ ان کو شرعی نبی سمجھا جا رہا ہے؟ اور اسی کتاب میں جو حضرت خلیفة المسیح الثانی کی تصنیف ہے اس بات کی وضاحت بار بار کی گئی ہے۔اس کا صرف ایک حوالہ پیش ہے۔