دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 230
230 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری سپیکر : پھر بعد میں فیصلہ کریں گے۔اس کے بعد 12 بجے تک کے لئے اجلاس ملتوی کر دیا اس اظہار رائے سے اندازہ ہوتا تھا کہ جس طرز پر کارروائی جاری تھی اس پر اندر سے خود کئی ممبران کا ضمیر مطمئن نہیں تھا۔وہ جانتے تھے کہ اسمبلی اپنی حدود سے تجاوز کر رہی ہے۔سپیکر یہ کہہ کر بات کو ٹال گئے کہ اس مسئلہ پر پھر بات کریں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلہ پر پھر کبھی بات نہیں کی گئی۔12 بجے کارروائی دوبارہ شروع ہوئی۔قبل ازیں غیر احمدی علماء کے جو فتاویٰ پڑھے گئے تھے ان کا کئی ممبران کے دل پر کیا اثر تھا اس کا اندازہ ایک اور ممبر چوہدری غلام رسول تارڑ صاحب کے اس تبصرہ سے ہوتا ہے جو انہوں نے سپیکر اسمبلی کو مخاطب کر کے کیا۔انہوں نے کہا کہ جو فتوے یہاں مرزا صاحب نے پڑھے ہیں ، ان کا اچھا اثر نہیں ہو گا۔اگر کسی ممبر یا مولانا صاحب کے پاس ان کی تردید ہو تو وہ دے دیں۔عبد العزیز بھٹی صاحب نے کہا کہ مفتی محمود صاحب نے کہا ہے کہ تردید ہوئی ہے اور ان کی Citations بھی دی ہیں۔جب اٹارنی جنرل صاحب مناسب سمجھیں گے تو ان کے بارے میں سوال پوچھ لیں گے لیکن اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے ان کی تردید کا سوال نہیں اُٹھایا۔اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان فتاویٰ کا کوئی جواب ان کے پاس نہیں تھا اور نہ ہی ان کی کبھی کوئی تردید ہوئی تھی۔اگر مذکورہ فتاوی دینے والوں نے کبھی ان کی کوئی تردید کی تھی تو چاہیے کہ اب بھی ان کو پیش کیا جائے تاکہ ان مولوی حضرات پر لگا ہوا یہ یہ الزام دور ہو۔الزام یہ فتوے تو علماء کئی صدیوں سے دوسرے فرقوں کے خلاف دیتے آرہے تھے۔اگر ان کو تسلیم کر کے پاکستان کے آئین میں ترمیم کی جاتی تو پاکستان میں مسلمان دیکھنے کو نہ ملتا۔یہ کوئی ایک مثال تو نہیں تھی کہ