دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 229
229 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جب کچھ ممبران کی طرف سے بار بار اس بات کا اظہار کیا گیا کہ فلاں فلاں سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔تو سپیکر کو ان باتوں کی تصحیح کرنی پڑی۔چنانچہ جب مولوی نعمت اللہ صاحب نے یہ اعتراض اٹھایا کہ قائد اعظم کے جنازے کے بارے میں سوال کا جواب نہیں دیا گیا تو سپیکر نے انہیں یاد کرایا کہ اس کا جواب آگیا ہے۔اسی طرح کا سوال جب مولوی غلام غوث ہزاروی صاحب کی طرف سے اُٹھایا گیا تو ان کو بھی سپیکر صاحب نے یاد کرایا کہ اس سوال کا جواب آچکا ہے۔اس موقع پر ایک ممبر عبد الحمید جتوئی صاحب نے جو کہا ہم اُسے من و عن درج کر دیتے ہیں۔”جناب چیئر مین ! ہمیں کل سے پتہ لگا ہے کہ ہم اس ہاؤس میں جج بنے ہیں اور ہم فیصلہ کریں گے۔میں سمجھتا ہوں ہماری پوزیشن وہی ہے جیسے کہ کسی نان ایڈووکیٹ کو ہائی کورٹ کا حج بنا دیا جائے اور وہ فتویٰ دے اس حج کا جو فتویٰ ہے حج کی حیثیت حج کی حیثیت سے۔۔۔میری تو عرض یہ ہے کہ یا تو ہم اسلام کے ماہر ہوں ،اسلامیات پڑھے ہوں یا پروفیسر ہوں اسلامیات کے تو پھر ہم سے فتویٰ کی امید رکھی جا سکتی ہے۔لیکن ایسے حالات میں ہمارے لئے as a lay man بڑا مشکل ہے کہ ہم حج بنیں “ 66 سپیکر : آپ نے فتویٰ نہیں دینا آپ نے فیصلہ کرنا ہے۔عبدالحمید جتوئی صاحب: فیصلہ کرنا ہے؟ سپیکر : فیصلہ کرنا ہے۔عبد الحمید جتوئی صاحب : فیصلہ کرنے کا اس آدمی کو کیسے حق آپ دیتے ہیں جس کو فیصلہ کے قانون کا پتہ نہ ہو ؟ انتہائی زیادتی ہے ہمارے ساتھ۔