دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 7
7 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری پس منظر الہی سلسلوں کی مخالفت جب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مامور دنیا کی اصلاح کی لیے آتا ہے تو ایک عالم اس مامور کے اور اس کی قائم کر دہ جماعت کے خلاف کمر بستہ ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس پیارے کی تکذیب کی جاتی ہے اور اس سے استہزاء کیا جاتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔كُلَّمَا جَاءَ أُمَّةً رَسُوْلُهَا كَذَّبُوهُ (المؤمنون: 45) جب بھی کسی امت کی طرف اس کار سول آیا تو انہوں نے اسے جھٹلا دیا۔يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُوْنَ (ليس: 31) وائے حسرت بندوں پر ! ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا مگر وہ اس سے ٹھٹھا کرنے لگتے ہیں۔لیکن ان تمام تر مخالفتوں کو اور مخالفانہ حربوں کے باوجود اللہ تعالیٰ یہ اعلان کرتا ہے۔كَتَبَ اللهُ لاَ غُلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِى اِنَّ اللهَ قَوِيٌّ عَزِيزُ (المجادلة : 22) اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ ضرور میں اور میرے رسول غالب آئیں گے۔یقینا اللہ بہت طاقتور ( اور ) کامل غلبہ والا ہے۔جب آنحضرت کے غلام صادق، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے خبر پاکر یہ اعلان فرمایا کہ میں تو وہی وجو د ہوں جس کے آنے کی خوش خبری نبی اکرم نے دی تھی تو وہی تاریخ دہرائی گئی جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہونے والے ہر مامور کی بعثت پر دہرائی جاتی ہے۔تمام گروہ آپس کے اختلافات بھلا کر آپ کی مخالفت پر متحد ہو گئے۔ان مخالفین نے تمام حیلے اور تمام مکر استعمال کر کے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ آپ ناکام ہوں اور آپ کی جماعت کو ختم کر دیا جائے۔اور بار بار یہ اعلان کیا گیا کہ ہم اس گروہ کو نیست و نابود کر دیں گے۔لیکن دوسری طرف اللہ تعالٰی کا مامور اللہ تعالی سے بشارات پا کر یہ اعلان کر رہا تھا۔