دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 83 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 83

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 83 بارے میں یہ معلومات تو بہت پہلے مل جاتی ہیں لیکن ہوا یہ کہ اس گروپ کو یہ پتہ سٹیشن پہنچ کر چلا کہ ان کے لئے دو نہیں بلکہ ایک بوگی مخصوص کی گئی ہے۔چنانچہ اس پروگرام کو کچھ دن کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔اور پھر ریلوے حکام نے یہی فیصلہ کیا کہ صرف ایک ہی ہو گی مہیا کی جاسکتی ہے اور پھر اس درخواست پر کہ یہ بوگی خیبر میل کے ساتھ لگائی جائے یہی فیصلہ بر قرار رکھا کہ یہ بوگی چناب ایکسپریس کے ساتھ لگائی جائے گی۔چنانچہ جگہ کی قلت کی وجہ سے یہی فیصلہ کیا گیا کہ اب صرف طلباء جائیں گے اور طالبات ، اساتذہ اور ان کے اہل خانہ اس پروگرام میں شامل نہیں ہوں گے۔ٹریبونل نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ 22 / مئی کو جب یہ طلباء ریلوے سٹیشن سے گزرے تو کسی نے انہیں جماعت کے اخبار روز نامہ الفضل کی کاپی پیش کی۔ان طلباء نے احمدیت کے خلاف نعرے لگائے۔اس رپورٹ میں درج شواہد کے مطابق ان میں سے بعض طلباء نے اپنے کپڑے اتار دیئے اور ان کے جسم پر صرف زیر جامہ ہی رہ گئے اور انہوں نے اس عریاں حالت میں رقص کرناشروع کیا اور ربوہ کے لوگوں سے حوروں کا مطالبہ کیا۔لیکن اس اشتعال انگیزی کے باوجود کوئی ہنگامہ نہیں ہوا اور گاڑی ربوہ سے نکل گئی۔یہاں پر دو باتیں قابل ذکر ہیں ایک تو یہ کہ اگر یہ طلباء اپنی درخواست کے مطابق خیبر میں سے جاتے تو یہ گروپ ربوہ سے نہ گزر تا اور اگر ان کے ساتھ ان کے کالج کے اساتذہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اور کالج کی طالبات بھی ہو تیں تو یہ طلباء اس طرز پر اشتعال انگیزی نہ کر سکتے۔اور یہ ایک حکومتی محکمہ کا فیصلہ تھا کہ انہیں چناب ایکسپریس سے بھجوایا جائے۔اور دو بوگیاں بھی ریلوے نے مہیا نہیں کیں جن کی نے میںانہیں کیر وجہ سے ایسی صورت پید اہوئی کہ صرف لڑکے ہی اس گروپ میں شامل ہو سکے۔22 / مئی کے واقعہ کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح الثالث " نے وہ خطبہ ارشاد فرمایا جس کا ذکر ہم کر چکے ہیں اور احباب جماعت کو ارشاد فرمایا کہ کسی طرح بھی اشتعال میں نہیں آنا اور صبر کا دامن پکڑے رکھنا ہے اور حضور کا یہ ارشاد صرف خطبہ جمعہ تک محدود نہیں تھا بلکہ حضور اس امر کی اس کے بعد بھی بار بار تلقین فرماتے رہے کہ ہر حال میں صبر کا دامن پکڑے رکھنا ہے۔چنانچہ صاحبزادہ مرزا مظفر احمد ابن مکرم صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب جو حضور کے بھتیجے ہیں بیان کرتے ہیں کہ میں نے 22 / مئی 1974ء کے بعد گھر میں بھی اور ڈیوٹی دیتے ہوئے بھی بار بار حضور سے صبر کی تلقین سنی۔مجھے الفاظ یاد نہیں ہیں لیکن حضور نے یہ بار بار فرمایا تھا کہ ہم نے ہر صورت میں صبر سے کام لینا ہے اور کوئی سختی نہیں کرنی اور میرے ذہن میں حضور کی یہ ہدایت اتنی پختگی سے گھر کر چکی تھی کہ 29 مئی کو جب نشتر میڈیکل کالج کے یہ طلباء واپسی پر پھر ربوہ سے گزر