دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 74
74 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جلال، عظمت و جبروت کسی چیز سے بھی متاثر نہیں ہوا۔اس نے وہیں موتمر میں سلطان ابن سعود سے پورے آزادانہ لہجہ میں تخاطب کیا کہ یہ ملوکیت کیسی ؟ اسلام میں تو شخصیت کی بیج کنی کی گئی۔شوری اور جمہوریت کو تفوق حاصل ہے۔تم کتاب و سنت کے تمسک کے مدعی ہو پھر یہ قیصر و کسریٰ کی پیروی کیوں؟ محمد علی کے اس آوازہ حق نے تمام لوگوں کو چونکا دیا اور یہ احساس پیدا کر دیا کہ ابھی عالم اسلام حق گو اور حق پرست شخصیتوں سے خالی نہیں ہے۔گو آج صحابہ کرام کا وجودِ گرامی ہمارے درمیان نہیں پھر بھی ایسی ہستیاں ابھی موجود ہیں جو حق کے لئے سارے عالم اسلام سے دشمنی مول لے سکتی ہیں اور کسی شاہ و شہر یار کو خاطر میں نہیں لاتیں۔۔۔۔۔۔سب سے زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ خلافت کمیٹی کی پالیسی۔ہدایات اور نصب العین سے جن لوگوں کو کامل اتفاق تھا جن کی صدارت اور جن کی تائید سے یہ خبریں پاس ہوئی تھیں اور ابن سعود کو بھیجی گئی تھیں انہوں نے نہایت شد ومد سے اختلاف کیا۔ملوکیت کی حمایت کی اور وعدہ خلافیوں پر پردہ ڈالنا چاہا۔“ (سیرت محمد علی حصہ اول و دوم ص 448 تا450، مصنفہ رئیس احمد جعفری، ناشر کتاب منزل لاہور) مولانا محمد علی جو ہر صاحب نے جن خیالات کا بھی اظہار کیا ہو یہ ظاہر ہے کہ موتمر عالم اسلامی کے پہلے اجلاس میں کم از کم ہندوستان کا جو وفد شریک ہوا اس میں شبیر عثمانی صاحب، ظفر علی خان صاحب اور سلمان ندوی صاحب جیسے افراد موجود تھے جو کہ جماعت احمدیہ کے شدید مخالف تھے اور ان میں سے کئی ایسے تھے جو کہ سلطان عبد العزیز کی مخالفت کرتے گئے تھے اور پھر وہاں جا کر انہوں نے اپنا موقف بدل لیا تھا۔یہ واقعات 1926ء کے ہیں اور یہ سال جماعتِ احمدیہ کی تاریخ میں بھی ایک خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس سال لندن میں مسجد فضل لندن کا افتتاح ہوا تھا۔اور یہ مغربی دنیا میں جماعت احمدیہ کی پہلی مسجد تھی۔جب اس کے افتتاح کا معاملہ پیش ہوا تو یہ فیصلہ ہوا کہ عراق کے بادشاہ کے چھوٹے بھائی امیر زید جو اس وقت آکسفورڈ میں تعلیم پارہے تھے یا عراق کے بادشاہ شاہ فیصل جو اس وقت انگلستان کے دورہ پر تھے ، سے اس مسجد کا افتتاح کرایا جائے۔اس کے لئے شاہ فیصل کو خط بھی لکھا گیا لیکن ان کی طرف سے کوئی تسلی بخش جواب موصول نہیں ہوا تو پھر سلطان عبد العزیز ابن سعود کو تار دی گئی کہ وہ اپنے کسی صاحبزادے کو اس بات کے لئے مقرر کریں کہ وہ مسجد فضل لندن کا افتتاح کریں۔اور ان کے انگریز دوست نے بھی انہیں لندن سے تار دی کہ آپ اس مسجد کے افتتاح کے موقع پر ہر دلعزیزی حاصل کر سکتے ہیں۔چنانچہ امام مسجد لندن حضرت مولانا