دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 72
72 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری عبد العزیز ابن سعود نے جو کہ پہلے صرف مجد پر حکمران تھے، حجاز پر قبضہ کیا تھا۔اس سے قبل حجاز پر شریف مکہ کی حکمرانی تھی۔سلطان عبد العزیز ابن سعود وہابی مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔جب حجاز پر ان کا قبضہ ہوا تو پوری دنیا کی طرح ہندوستان میں یہ خبریں پہنچیں کہ حجاز میں ان کے حملہ کے نتیجہ میں بہت خون ریزی کی گئی ہے اور صحابہ کی بہت سے قبروں کے نشانات اور بعض مزاروں پر سے گنبدوں کو منہدم کیا گیا ہے کیونکہ وہابی مسلک کے تحت ان چیزوں کو بدعت سمجھا جاتا ہے۔ان خبروں نے ہندوستان میں بھی بے چینی کی لہر پیدا کر دی۔لیکن عبد العزیز ابن سعود اور ان کے حامیوں کی طرف سے ان خبروں کو مبالغہ آمیز قرار دیا گیا۔مولوی شبیر عثمانی صاحب جو جماعت احمدیہ کے اشد ترین مخالفین میں سے تھے ان کی سوانح حیات ، حیات عثمانی میں لکھا ہے :۔د لیکن ابن سعود حنبلی مذہب کے تھے۔عبد الوہاب نجدی کے ہم مشرب تھے کہ وہ بھی حنبلی تھا، انہوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی خدمت کا چارج لیتے ہی ماثر حجاز کو منہدم کرا دیا۔صحابہ کے تمام پختہ مزارات کو پیوست زمین کر دیا، قبروں کا نام ونشان نہ چھوڑا۔البتہ کچی قبریں نشانی کے طور پر رہنے دیں۔ترکوں نے تقریبا تمام متبرک اور محترم شخصیتوں کی قبروں پر مجھے بنوا دیئے تھے ، اور ان پر ان کے نام بھی کندہ کرا دیئے تھے لیکن سب کو صاف کرا دیا گیا۔جنگ احد کے شہداء بالخصوص امیر حمزہ رضی اللہ عنہم کی قبریں ہموار حالت میں ہیں جو میں نے اپنی آنکھوں سے 1965ء میں دیکھی ہیں۔اب چاروں طرف صرف پتھروں کے ٹکڑے رکھے ہوئے ہیں۔جنت البقیع میں بھی مزارات کا یہی حال ہے۔ان کا نظریہ یہ تھا کہ اسلام کے فرزند یہاں آکر قبروں کو سجدہ کرتے ہیں۔لہذا ان تاثر کو ہی اڑا دیا۔ایسا کرنے سے دنیائے اسلام میں ہیجان پھیل گیا اور مشرق سے لے کر مغرب تک اضطراب اور جوش و غضب کی لہر دوڑ گئی۔احتجاج کیا گیا۔جس کے نتیجے میں سلطان ابن سعود نے ممالک اسلامیہ سے تبادلہ خیالات کے لئے ایک مؤتمر ( اجتماع ) منعقد کی جس میں ہندوستان، کابل، مصر ، شام، حجاز ، روس وغیرہ کے علماء کو دعوت دی گئی۔“ (حیات عثمانی، ص 237، مصنفہ پر وفیسر محمد انوار الحسن شیر کوئی، ناشر مکتبہ دارالعلوم کراچی) ان حالات میں خلافت کمیٹی کی طرف سے جو تار سلطان ابن سعود کو بھجوایا گیا جس میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ حجاز کے متعلق معاملات کے بارے میں ایک عالمی مؤتمر اسلامی منعقد کی جائے اس کے متعلق خود مولانا محمد علی جو ہر تحریر کرتے ہیں کہ اس کے جواب میں سلطان ابن سعود کا تار ملا کہ