دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 599 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 599

599 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری پاکستان میں اس عمل کو آگے بڑھانے کے لئے یہ فتوے تیار کئے گئے اور یہ مرحلہ آیا کہ علماء کی ایک مجلس شوری طلب کی گئی اور اس نے پاکستان کی حکومت کے کافر ہونے کا فتویٰ صادر کیا اور اس کی غرض یہ تھی کہ اپنے زیر اثر لو گوں کو خروج ( بغاوت) پر آمادہ کیا جائے۔بات آگے بڑھی تو پاکستان کے دارلحکومت میں موجود ایک دارالافتاء نے یہ فتویٰ دیا کہ جو جو پاکستانی فوجی جو جنوبی وزیرستان میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے ہیں ، نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے اور نہ انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔پھر سوات میں تسلط حاصل کر کے ایک جلسہ عام میں یہ فتویٰ صادر کیا گیا کہ جمہوریت کفر ہے اور پاکستان کی ہائی کورٹس اور پاکستان کی سپریم کورٹ شرک کے ایسے مراکز ہیں جہاں بتوں کی پرستش کی جاتی ہے۔Inside Al-Qaeda and the Taliban beyond Bin Laden and 9/11, by Syed Salim ) (Shahzad, published by Pluto Press,2011,p46, 160, 174 یہ کوئی اتفاق نہیں تھا کہ حالات اس انتہا کو پہنچے۔یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا اور جماعت احمدیہ کے محضر نامہ کے صفحہ 167 پر یہ انتباہ کر دیا گیا تھا اور باقاعدہ ثبوت درج کر کے کیا گیا تھا کہ ابھی سے یہ منصوبے بن چکے ہیں کہ تنگ نظر گروہ دوسرے فرقوں سے وابستہ افراد پر کفر کے فتوے لگانے اور ان کو واجب القتل اور واجب التعزیر قرار دینے کی تیاریاں کر رہے ہیں اور جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں سوال وجواب کے دوران بھی حضور نے ممبرانِ اسمبلی کے سامنے یہ انتباہ کر دیا تھا اور اپنی آخری تقریر میں اٹارنی جنرل صاحب نے یہ نا معقول نظریہ پیش کیا تھا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر کفر کے فتوے لگانے سے نہ صرف کوئی انتشار نہیں پیدا ہو تا بلکہ مذہبی معاملات میں ذہنی ترقی ہوتی ہے۔اب نتیجہ سب کے سامنے ہے۔پڑھنے والے خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کون صحیح تھا اور کون غلط ؟ اب ایک ہی راستہ ہے۔پاکستان کو اس منزل کی طرف سفر شروع کرنا ہو گا جس کا تعین قائد اعظم نے 11/ اگست 1947 ء ان الفاظ میں کیا تھا۔