دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 598
598 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری تو اس طرح اس عمل کا یہ خوفناک نتیجہ نکلا پہلے تو حکومت کو استعمال کر کے تکفیر کا عمل شروع کرایا گیا تھا اور پھر آخر میں یہ ہوا کہ اس عمل کو ہاتھ میں لے کر جس کو چاہا کا فر، مرتد اور واجب القتل قرار دے دیا اور جب اس گروہ کے مفادات نے تقاضا کیا تو اس وقت مسلمان ممالک کی حکومتوں اور ان سے وابستہ تمام افراد کو بھی کافر قرار دے کر ان ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کو ان کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا جیسا کہ اس تاریخی عمل کا جائزہ لیتے ہوئے سید سلیم شہزاد صاحب لکھتے ہیں:۔That situation necessitated a strategy that would separate all newly popped up Islamic factions from statecraft and bring then under Al-Qaeda۔Takfeer (declaring them apostate) was the best way in which to serve this cause۔From the mid 1990's carefully crafted literature was published and circulated۔(Inside Al-Qaeda and the Taliban beyond Bin Laden and 9/11, by Syed Salim Shahzad, published by Pluto Press,2011,p 134) یعنی صورت حال کا تقاضا تھا کہ ایس حکمت عملی اپنائی جائے کہ مسلمانوں میں بننے والے یہ گروہ ریاستی اداروں سے مکمل طور پر علیحدہ رہیں۔تکفیر اس مقصد کو حاصل کرنے کا آسان ترین حل تھا۔اس مقصد کے لئے 1990ء کی دہائی کے وسط سے بہت احتیاط سے تیار کیا گیا لٹریچر شائع کیا گیا اور پھیلایا گیا۔اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ تکفیر کو ایک باقاعد و پیشہ بنا کر اس کے قوائد کے بارے کتب شائع کی گئیں اور انہیں پھیلایا گیا۔جیسا کہ اس کتاب میں لکھا ہے کہ دیگر لٹریچر کے علاوہ ایک کتاب " قوائد التکفیر" کی باقائدہ واشاعت کی گئی کہ مسلمانوں کو کافر قرار دینے کے قوائد کیا ہیں؟