دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 597
597 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اس کتاب میں مصنف نے اس سوال کا تفصیلی جائزہ لیا کہ یہ نوبت کیوں آئی کے خود مسلمانوں نے اپنی ہی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی اور نہ صرف حکومت سے وابستہ اشخاص کو بلکہ عام مسلمانوں کو بھی قتل و غارت کا نشانہ بنایا جبکہ یقینی طور پر یہ عمل اسلام کی تعلیمات کے خلاف تھا۔سید سلیم شہزاد صاحب اپنی کتاب کے ایک باب Takfeer and Kharuj میں اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ پہلے یہ سوال اُٹھایا گیا کہ کیا یہ حکومت اور اس سے وابستہ افراد اور افواج سے وابستہ افراد مسلمان ہیں کہ نہیں؟ اور پھر اپنے گروہ میں اس کا یہ جواب پیش کیا گیا اور ان کے ذہنوں میں اچھی طرح راسح کرایا The conclusion arrived at by one strain of this debate is that barring small clusters in Muslim societies, the majority of the people who call themselves Muslims have in fact given up Islam۔This has not come from purely academic debate or sectarian discussion of a particular clerical order, but is factually basis of Al-Qaida's ideology which todays paradoxically aims at polarization of societies in the Muslim world۔(Inside Al-Qaeda and the Taliban beyond Bin Laden and 9/11, by Syed Salim Shahzad, published by Pluto Press,2011,p 124) ترجمہ : ایک مکتبہ فکر نے یہ نتیجہ نکالا کہ مسلمانوں کے معاشرے میں چھوٹے چھوٹے گروہوں کو چھوڑ کر باقی وہ تمام لوگ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، دراصل اسلام کو ترک کر چکے ہیں۔یہ محض کوئی نظریاتی یا فرقہ وارانہ بحث نہیں تھی جو کہ علماء کے ایک طبقہ کی طرف سے کی جارہی تھی بلکہ حقیقت میں القاعدہ کے نظریات کی بنیاد ہے اور یہ ایک تضاد ہے کہ اس کا مقصد عالم اسلام میں اختلاف پید ا کرنا ہے۔