دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 579 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 579

579 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری انصاف میں کیا فرق ہے۔میں اس بات پر اصرار کر رہا تھا کہ سر عام کارروائی ہو کیونکہ کھلی کارروائی اور انصاف ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں خاص طور پر جب ایک قتل کے مقدمہ کی کارروائی کی جا رہی ہو۔۔۔خدا کے آخری پیغمبر صلی الی میں بھی مسجد میں سر عام انصاف فرمایا کرتے تھے۔یہ کام کسی خفیہ گوشے میں نہیں کیا جاتا تھا۔بھٹو صاحب کے دلائل وزنی ہیں۔واقعی اگر انصاف ہو رہا ہے تو سب کو نظر آنا چاہئے کہ انصاف ہو رہا ہے۔خفیہ کارروائی یا جیسا کہ خود بھٹو صاحب نے الفاظ استعمال کئے ہیں IN CAMERA کارروائی سے تو یہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے جا رہے۔لیکن اس کتاب میں In Camera کے الفاظ پہلے بھی کہیں آئے ہیں۔کچھ برس پہلے بھٹو صاحب نے خود ہی قومی اسمبلی میں ایک کارروائی کے متعلق اعلان کیا تھا کہ وہ In Camera ہو گی۔یعنی جب پوری قومی اسمبلی نے جماعت کے وفد کا موقف سنا تھا۔یہ کارروائی تو بڑے اہتمام سے In Camera اور خفیہ کی گئی تھی اور اس کے بعد قرارداد منظور کی گئی تھی کہ احمدیوں کو آئین میں غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے۔بھٹو صاحب نے فیصلہ کے بعد تقریر کرتے ہوئے یہ وعدہ کیا تھا کہ اس کارروائی کو منظر عام پر لایا جائے گا۔لیکن تین سال گزر گئے ایسا نہیں کیا گیا۔پھر اگر بھٹو صاحب کا کلیہ تسلیم کر لیا جائے تو یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ۱۹۷۴ء میں انصاف کے کم از کم تقاضے پورے ہو گئے تھے۔آج انہی کے الفاظ ان کو ملزم کر رہے تھے۔اور دوسری طرف جماعت کے مخالفین کو کھلی چھٹی تھی کہ وہ اخبارات میں اعلان کریں کہ ہم نے یہ کارنامہ سر انجام دیا ، ہم نے وہ کارنامہ کیا۔لیکن جماعت احمدیہ کو کارروائی کے دوران بھی اس کارروائی کی کاپی نہیں مہیا کی گئی تھی تاکہ وہ اگلے روز کے جوابات سہولت سے تیار کر سکیں۔جبکہ اسمبلی ممبران کو روزانہ کی بنیاد پر کارروائی کی کاپی مہیا کی جا رہی تھی۔آج خدا کی قدرت خود بھٹو صاحب کے منہ سے نکلوا رہی تھی کہ In Camera کارروائی سے تو انصاف کے کم از کم نقاضے بھی پورے نہیں ہوتے۔