دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 578 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 578

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 578 کہ کمرہ عدالت میں حج اور وکلاء تو موجود تھے لیکن سامعین موجود نہیں تھے۔کورٹ روم خالی تھا۔انہیں استفسار پر بتایا گیا کہ اب سے مقدمہ کی کارروائی In Camera ہو گی۔اس سے پہلے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس گی۔اس مولوی مشتاق صاحب نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ کارروائی دن کی روشنی میں ہو گی اور اب جب کہ بھٹو صاحب کے جواب کا وقت آیا تو فیصلہ کیا گیا کہ کارروائی خفیہ ہو گی۔بھٹو صاحب نے اس پر شدید احتجاج کیا۔انہوں نے کہا کہ نہ صرف انصاف ہونا چاہئے بلکہ یہ نظر بھی آنا چاہئے کہ انصاف ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ اسے انصاف کہتے ہیں۔آپ اسے مقدمہ چلانا کہتے ہیں۔یہ بھی بھول جائیں کہ میں ملک کا صدر اور وزیر اعظم رہا ہوں۔اسے بھی بھول جائیں کہ میں ملک کی سب سے بڑی پارٹی کا سر براہ ہوں۔ان سب چیزوں کو بھول جائیں لیکن میں پاکستان کا شہری تو ہوں اور میں قتل کے مقدمے کا سامنا کر رہا ہوں۔ایک عام آدمی کو بھی انصاف کے حصول سے نہیں روکا جاتا۔بھٹو صاحب کو اس بات پر بہت اعتراض تھا کہ جب کہ ان کے خلاف پیش ہونے والے گواہوں کے بیان کو سر عام سنا گیا اور ان کے بیانات کی پوری طرح تشہیر ہوئی لیکن جب اس بات کی باری آئی کہ وہ جواب دیں تو خفیہ کارروائی شروع ہو گئی۔انہوں اس بات کا تذکرہ اپنی کتاب If I am assassinated میں بھی کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں:۔"When I protested on the conversion of my trial for murder from open proceeding to in camera trial for my defence somehow I could not make clear to judges the differences between publicity and justice۔I was demanding a public trial because the concept of justice is inextricably intertwined with an open trial, especially if it involves capital punishment۔۔۔۔۔۔۔۔۔The last and final messenger of God dispensed justice in an open mosque and not as a cloistered virtue"۔جب میں نے اس بات پر احتجاج کیا کہ جب میرے دفاع کا وقت آیا تو کیوں میرے مقدمہ کو ایک کھلی کارروائی سے ایک خفیہ کارروائی میں تبدیل کر دیا گیا ہے تو میں جوں پر یہ بات واضح نہ کر سکا کہ تشہیر اور