دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 565
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 565 پر نواب محمد احمد قصوری کا قتل 10 اور 11/ نومبر 1974ء کی درمیانی رات کو احمد رضا قصوری صاحب اپنے والد نواب محمد احمد صاحب کے ہمراہ اپنی کار میں ایک شادی سے ماڈل ٹاؤن لاہور میں واقعہ اپنے گھر واپس آ رہے تھے۔وہ کار کو ڈرائیو کر رہے تھے اور نواب محمد احمد صاحب ان کی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے تھے۔ان کی والدہ اور ان کی بہن پچھلی سیٹ بیٹھی تھیں۔جب وہ شاہ جمال شادمان کے چوک Round about) پر پہنچے تو ان کی گاڑی پر گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہو گئی۔احمد رضا قصوری صاحب کو تو کوئی گولی نہیں لگی لیکن ان کے والد گولیوں کی زد میں آ گئے اور گاڑی کا فرش خون سے بھر گیا۔وہ اسی گاڑی کو لے کر یو سی ایچ ہسپتال پہنچے لیکن ان کے والد جانبر نہ ہو سکے۔ان کے سر پر ایک سے زیادہ گولیاں لگی تھیں۔واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس افسران جب ہسپتال پہنچے تو احمد رضا قصوری صاحب نے ایف آئی آر میں یہ درج کرانے پر اصرار کیا کہ میں اپوزیشن کا ممبر قومی اسمبلی ہوں اور مجھے وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں دھمکی دی تھی کہ میں اب تمہیں برداشت نہیں کر سکتا۔قصوری صاحب نے وزیر اعظم کا نام ایف آئی آر میں درج کرانے پر اصرار کیا۔بھٹو صاحب اس وقت اقتدار میں تھے تحقیقات بے نتیجہ رہیں اور احمد رضا قصوری صاحب ایک بار پھر بھٹو صاحب کی پارٹی میں شامل ہو گئے بلکہ ان کی تعریف میں خطوط بھی لکھتے رہے اور جب 1977ء کا الیکشن آیا تو وہ پی پی پی کے ٹکٹ کے لئے درخواست گزار بھی ہوئے مگر انہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا۔انجام بلند ایوانوں کا بھٹو صاحب احمدیوں کے خلاف آئین میں ترمیم سے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے یہ کوئی مفروضہ نہیں۔یہ ایک حقیقت ہے جس کا اقرار خود ان کے قریبی رفقاء اور وزراء جو اس کام میں ان کے ساتھ رہے تھے وہ بھی کرتے ہیں۔بھٹو صاحب کی کابینہ کے وزیر برائے اطلاعات اور نشریات کوثر نیازی صاحب تحریر کرتے ہیں:۔