دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 556 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 556

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 556 ہے مقبولیت حاصل کرنے کا طریق تھا جو کہ ان کو نا پسند کرتے تھے۔اس کے باجود بھٹو صاحب کی پالیسی اخلاقیات حملے کی زد میں رہے۔“(19) اس فیصلہ کے بعد پہلا جمعہ 13 / ستمبر کو تھا۔قدرتاً احباب جماعت حضرت خلیفة المسیح الثالث " کی زبانِ مبارک سے یہ ہدایت سننا چاہتے تھے کہ اس فیصلہ پر احمدیوں کا کیا رد عمل ہونا چاہئے؟ حضور نے خطبہ جمعہ کے آغاز میں فرمایا کہ اس وقت تو یہ تبصرہ ہے کہ No Comments یعنی کوئی تبصرہ نہیں۔اس کی وجہ کہ اس پر تبصرہ سے قبل بڑے غور اور تدبر کی ضرورت ہے اور مشورے کی ضرورت ہے۔اس پر مشورے اور غور کرنے کے بعد میں بتاؤں گا کہ جو پاس ہوا ہے وہ اپنے اندر کتنے پہلو لئے ہوئے تھا۔کیا بات صحیح ہے کیا بات صحیح نہیں ہے۔حضور نے فرمایا کہ حقیقت کو ابھرنے دیں۔حقیقت کو Unfold ہونے دیں۔اس کے بعد حضور نے تفصیل سے بیان فرمایا کہ اس فیصلہ پر کسی احمدی کے ردِ عمل میں ظلم اور فساد کا شائبہ تک نہیں ہو نا چاہئے۔(20) اس کے بعد حضور نے مختلف خطبات اور تقاریر میں بیان فرمایا کہ اس فیصلہ پر جماعت احمدیہ کا رد عمل کیا ہونا چاہئے۔جب جلسہ سالانہ کا وقت آیا تو ایک عجیب سماں تھا۔حکومت نے پہلی مرتبہ فیڈرل سیکیورٹی فورس کے جوان ربوہ کے جلسہ پر بھجوائے تھے۔حضور نے افتتاحی خطاب کے آغاز میں فرمایا:۔وو لوگوں کی طرف سے بہت سی افواہیں پھیلائی گئیں۔ایک افواہ یہ تھی کہ مستورات کا جلسہ نہیں ہو گا۔حالانکہ مستورات کا جلسہ ہو رہا ہے ہماری احمدی بہنیں کافی تعداد میں پہنچ چکی ہیں لیکن بعض علاقوں سے بہت کم مستورات اس جلسہ میں شامل ہو رہی ہیں۔ایک یہ افواہ بھی بعض جگہوں پر پھیلائی گئی کہ ربوہ کے مسافروں کو راستہ میں بہت تنگ کیا جا رہا ہے گویا کہ ان کے نزدیک ہمارے ملک میں کوئی حکومت ہی نہیں ہے۔اس لئے بعض جگہوں سے لاریوں نے چلنے سے انکار کیا۔بعض جگہوں پر احمدی تذبذب میں پڑ گئے حالانکہ یہاں حکومت ہے اور ان کا بڑا اچھا انتظام ہے۔اس جلسہ پر یہاں بھی دوستوں کو پہلی بار گیلریوں کے حکومت کے باوردی نمائندے نظر آ رہے ہیں جو بڑے خوبصورت لگ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو اپنی ذمہ داریوں کے نباہنے کی توفیق عطا کرے۔“(21) اوپر