دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 546
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 546 ”اس انکوائری سے متعلق مجھے دو باتیں اور بھی لکھنی ہیں تا کہ عوام میں جو غلط فہمیاں ہیں وہ دور ہو۔جائیں۔پہلی بات تو یہ کہ انکوائری اس لیے کرائی گئی کہ عوام میں جو شدید ردِ عمل تھا وہ دور ہو۔لیکن جب انکوائری مکمل ہو گئی اور حکومت پنجاب کو رپورٹ دے دی گئی تو وہ رپورٹ عوام دی گئی تو وہ رپورٹ عوام کے لیے شائع نہیں کی گئی۔کیوں ؟ کیا عوام کو انکوائری کا نتیجہ جاننے کا حق نہیں ہے جبکہ انکوائری کروائی ہی عوام کی تسلی کے لیے تھی۔رپورٹ تھی۔رپورٹ کے شائع نہ ہونے کی وجہ سے عوام میں جو سب سے بڑی غلط فہمی عوام میں جو سب سے بڑی غلط فہمی ہے (اور یہ میری دوسری بات ہے) وہ یہ ہے کہ میں نے احمدیوں کو کافر قرار دیا ہے جبکہ جن سوالوں پر مجھ انکوائری کرائی گئی ان میں یہ سوال شامل ہی نہیں تھا۔سو میں نے اپنی رپورٹ میں یہ نہیں لکھا کہ احمدی کافر ہیں یا تھی نہیں۔“ (2) /24/ اگست کو وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کوثر نیازی صاحب نے بیان دیا کہ قادیانی مسئلہ کے بارے میں قومی اسمبلی جو فیصلہ کرے گی اس کے حل سے ملک کا وقار مزید بلند ہو گا اور اس فیصلہ میں ختم نبوت کو جو اسلام کی اساس ہے مکمل آئینی تحفظ حاصل ہو جائے گا(3)۔ہم اس بات کا تفصیلی جائزہ لے چکے ہیں کہ اسمبلی کی کارروائی کے دوران ممبران اسمبلی اصل موضوع پر سوالات کرنے کی ہمت بھی نہ کر سکے تھے اور اتنے روز محض اِدھر اُدھر کے سوالات کی تکرار میں وقت ضائع کیا گیا تھا۔لیکن جماعت کے مخالف علماء اس بات پر بہت اطمینان کا اظہار کر رہے تھے کہ وہ قومی اسمبلی میں ہونے والی کارروائی سے مطمئن ہیں۔چنانچہ 26 / اگست کو جمعیت العلماء اسلام کے قائد مولوی مفتی محمود صاحب نے یہ بیان دیا کہ وہ اسمبلی میں ہونے والی کارروائی سے مطمئن ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان مولوی حضرات کی مرضی بھی یہ تھی کہ اصل موضوع پر سوالات کی نوبت نہ آئے۔اسی روز پیپلز پارٹی کے وفاقی وزیر کوثر نیازی صاحب نے بیان دیا کہ پاکستان میں اسلامی نظام کے سوا کوئی دوسرا نظام نافذ نہیں کیا جا سکتا۔اور عویٰ کیا کہ موجودہ حکومت نے سب سے زیادہ اسلام کی خدمت کی ہے (4)۔جماعت کے وفد سوالات ختم ہونے کے بعد کچھ دن کے لیے جماعت احمدیہ غیر مبایعین کے وفد پر سوالات ہوئے۔اور 30 / پر اگست کو قومی اسمبلی پر مشتمل سپیشل کمیٹی نے پھر اجلاس کر کے اس مسئلہ پر غور کیا یا کم از کم ظاہر کیا کہ