دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 545 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 545

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 545 قومی اسمبلی کا فیصلہ سمجھتے اسمبلی میں کارروائی شروع ہونے سے قبل یہ تو واضح نظر آ رہا تھا کہ حکومت اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے جماعت احمدیہ کو آئین میں غیر مسلم قرار دینے کا پکا ارادہ کر چکی ہے۔پیپلز پارٹی کے قائد ، وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب اور ان کی پارٹی غیر مذہبی رجحانات کے لیے شہرت رکھتی تھی اور ان کے سیاسی مخالفین اس بات کو ان کے خلاف پروپیگنڈا کے لیے استعمال کرتے تھے۔اور اب بھٹو صاحب یہ تھے کہ احمدیوں کے خلاف فیصلہ کر کے وہ مذہبی حلقوں میں بھی مقبولیت حاصل کر لیں گے اور ان کے مخالفین کے ہاتھ میں ان کے خلاف استعمال کرنے کے لیے یہ ہتھیار نہیں رہے گا اور اس طرح ان کی پوزیشن بہت مستحکم ہو جائے گی۔اپوزیشن میں بہت سی نام نہاد مذہبی جماعتیں موجود تھیں وہ تو ایک عرصہ سے اس بات کے لیے تگ و دو کر رہی تھیں کہ کسی طرح احمدیوں کو نقصان پہنچایا جائے اور آئین میں ایسی ترامیم کی جائیں جن کے نتیجے میں احمدیوں کے بنیادی حقوق بھی محفوظ نہ رہیں۔قومی اسمبلی میں موجود تمام گروہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دے کر اپنے سیاسی قد کاٹھ میں اضافہ کر سکتے ہیں۔/20/ اگست کو جسٹس صمدانی نے ربوہ کے سٹیشن پر ہونے والے واقعہ پر اپنی تحقیقات وزیر اعلی پنجاب کے سپرد کیں اور وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ اب صوبائی حکومت اس پر غور کر کے اسے وفاقی حکومت کی طرف بھجوائے گی تاکہ اسے قومی اسمبلی کی اس خاص کمیٹی میں پیش کیا جا سکے جو کہ قادیانی مسئلہ پر غور کر رہی ہے (1)۔اس رپورٹ سے کوئی اتفاق کرتا یا اختلاف کرتا یہ الگ بات ہوتی لیکن اس رپورٹ کو بھی اس سارے تنازعہ کی دوسری باتوں کی طرح خفیہ رکھا گیا۔جسٹس صمدانی صاحب نے عرصہ بعد جب اپنی یادداشتیں لکھیں تو اس کتاب میں اس رپورٹ کے حوالے سے لکھا:۔