دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 544
544 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری You may belong to any religion or caste or creed that has got nothing to do with the business of the state۔یعنی آپ کا جو بھی مذہب ہو یا ذات ہو یا مسلک ہو اس کا ریاست کے کام سے کوئی تعلق نہیں۔قائد اعظم نے تو یہ کہا تھا کہ آپ کا مذہب کیا ہے سٹیٹ کا اس سے کوئی تعلق نہیں اور اس وقت پاکستان کی قومی اسمبلی یہ فیصلہ کررہی تھی کہ کس کو مسلمان کہلانے کا حق ہے اور کس کو نہیں ہے۔ممبران نے اس تقریر پر خوشی کا ظہار کیا اور اٹارنی جنرل صاحب کو داد دی اور اس طرح یہ اجلاس ختم ہوا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس بحث کو سمیٹتے ہوئے اٹارنی جنرل صاحب نے اس بنیادی نکتے کا کوئی ذکر نہیں کیا جو کہ جماعت احمدیہ کے محضر نامہ میں اٹھایا گیا تھا یعنی کیا پاکستان کی قومی اسمبلی یا دنیا کی کوئی بھی سیاسی اسمبلی اس بات کی مجاز ہو سکتی ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ کسی شخص کے مذہب کا کیا نام ہونا چاہیے ؟ کیا پاکستان کا آئین قومی اسمبلی کو یہ اختیار دیتا ہے ؟ کیا مسلّمہ مذہبی اقدار کسی اسمبلی کو اس بات کی اجازت دیتی ہیں؟ کیا عقل اس بات کو قبول کرتی ہے؟ نہ صرف اٹارنی جنرل صاحب بلکہ تمام ممبران اسمبلی ان بنیادی سوالات سے گریزاں رہے۔ان کی مثال اس شتر مرغ کی طرح تھی جو ریت میں سر دے کر سمجھتا ہے کہ طوفان مل گیا ہے۔