دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 498 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 498

وو دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 498 معقول اعتراض ہے اسے سہو کتابت تو کہا جا سکتا ہے لیکن کسی طرح تحریف نہیں کہا جاسکتا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے سو سے زائد مرتبہ قرآنِ کریم شائع کیا گیا ہے اور ان میں سے کسی میں بھی یہ آیت بغیر قبلك کے لفظ کے موجود نہیں اور ازالہ اوہام جب روحانی خزائن کے نام سے شائع کی گئی تو اس میں بھی یہ آیت درست موجود ہے، حضور نے ان امور کی نشاندہی فرمائی۔اس گفتگو کے دوران حضور نے فرمایا کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے لاکھوں کی تعداد میں قرآنِ کریم شائع کیا گیا ہے اور ان سب میں یہ آیت صحیح درج ہے۔اگر ایک کتاب میں ایک دو الفاظ شائع ہونے سے سہوآ رہ گئے ہیں تو یہ سہو کتابت ہی ہو سکتی ہے ، تحریف ہر گز نہیں ہو سکتی۔مولوی ظفر انصاری صاحب نے اس بارے میں جو موقف بیان فرمایا اس کے ایک ہی جملے سے ان کی ذہنی کیفیت کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا:۔۔۔۔آپ کے ہاں سے جو قرآنِ کریم چھپا ہوا چل رہا ہے اس میں کیا ہے۔وہ میں نے نہیں دیکھا۔ہے یا نہیں میں نہیں کہہ سکتا۔“ گویا مولوی صاحب اسمبلی میں یہ الزام لگا رہے ہیں کہ احمدیوں نے نعوذ باللہ قرآنِ کریم میں تحریف کر دی ہے اور خود تسلیم کر رہے ہیں کہ انہوں نے جماعت کے شائع کردہ قرآنِ کریم دیکھے ہی نہیں۔اس کے با وجود موصوف کا خیال تھا کہ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ جماعت احمدیہ پر قرآنِ کریم میں تحریف کرنے کا الزام لگائیں۔اور خود غیر احمدیوں کے شائع کردہ قرآنِ کریم کے کئی نسخوں میں سہو کتابت کئی جگہ پر پائی جاتی ہے اور تو اور اب جو اس سپیشل کمیٹی کی کارروائی شائع کی گئی ہے ، اس میں 7/ اگست کی کارروائی کے صفحہ 402 پر سورۃ بقرہ کی آیت 112 کا پہلا لفظ ہی غلط لکھا ہوا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ سہو کتابت ہے اس طرح کارروائی شائع کرنے