دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 497 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 497

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 497 الثالث نے دوران کارروائی فرمایا تھا کہ بعض سوالات کا جواب مولانا ابوالعطاء صاحب دیں گے۔بیشتر اس کے کہ تحریف قرآن مجید کے متعلق سوالات شروع ہوئے حضرت خلیفة المسیح الثالث نے کچھ اصولی باتیں بیان فرمائیں۔حضور نے قرآنی تفسیر کے سات معیار بیان فرمائے۔آپ نے پہلا معیار یہ بیان فرمایا کہ چونکہ قرآنِ کریم میں کوئی تضاد نہیں اس لیے قرآن کریم کی کسی آیت کی کوئی ایسی تفسیر نہیں کی جا سکتی جو کہ کسی اور آیت کے مخالف ہو۔دوسرا معیار آنحضرت صلی الم کی وہ صحیح احادیث ہیں جن میں قرآنی آیات کی تفسیر بیان کی گئی ہے اور تیسرا معیار یہ ہے کہ آنحضرت علی علیم کے صحابہ نے جو تفسیر کی ہے اسے ترجیح اس لیے دینی پڑے گی کیونکہ صحابہ کو آنحضرت صلی عالم کی صحبت سے ایک لمبا عرصہ فیض اٹھانے کا موقع ملا تھا۔اسی طرح چوتھا معیار یہ ہے کہ سلف صالحین نے جو تفسیر بیان کی ہے اسے بھی ہم قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے۔پانچواں معیار عربی لغت ہے۔اور یہ مد نظر رہے کہ بعض دفعہ لفظ کے کئی معنی ہوتے ہیں۔چھٹا معیار یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے قول و فعل میں کوئی تضاد ممکن نہیں ہے۔اگر کوئی تفسیر ایسی کی جا رہی ہے جو کہ خدا تعالیٰ کے اس فعل کے مخالف ہے جو سائنس کے ذریعہ ہمیں معلوم ہوا ہے تو یہ تفسیر رد کرنے کے قابل ہے اور ایک اصول حضور نے یہ بیان فرمایا کہ ہر نئے زمانے میں نئے مسائل پیدا ہوتے رہیں گے اور قرآنِ کریم ان نئے مسائل کے حل کے لیے بھی راہنمائی کرتا ہے۔اس لیے ہم یہ کبھی کہہ سکتے کہ قرآن کریم کے جتنے مطالب تھے سب سامنے آ گئے ہیں اور اب کوئی اور نئے مطالب سامنے نہیں آئیں گے۔حضور کے اس لطیف بیان کے بعد مولوی ظفر احمد صاحب انصاری نے تحریف پر سوالات شروع کیے۔اور پہلا سوال یہ کیا کہ: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ازالہ اوہام میں سورۃ حج کی آیت 53 وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَلا نَبِيَّ۔۔۔الخ اور کہا کہ جو کتاب جماعت احمدیہ نے شائع کی ہے اس میں قبلِكَ کا لفظ نہیں ہے۔اب یہ نا