دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 496
496 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جب وقفہ کے بعد کارروائی دوبارہ شروع ہوئی اور ابھی حضور ہال میں تشریف نہیں لائے تھے کہ رکن اسمبلی احمد رضا خان قصوری صاحب نے سپیکر کو مخاطب کر کے کہا کہ آج جب وہ وقفہ کے دوران اپنے گھر جا رہے تھے تو ایک جیپ سے ان پر فائرنگ کی گئی ہے۔گو وہ یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں تھے کہ ان پر یہ قاتلانہ حملہ کرنے والا کون تھا؟ اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اس کی ایف آئی آر تھانے میں درج کرادی ہے لیکن ان دنوں کے اخبارات میں اس کا ذکر کوئی نہیں ہے۔یہ بات قابل غور ہے کہ اس کے بعد ان پر ایک اور قاتلانہ حملہ بھی ہوا تھا اور اس قاتلانہ حملہ میں ان کے والد نواب محمد احمد خان صاحب گولیاں لگنے سے جان بحق ہو گئے تھے۔اور اس کا الزام اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب پر لگایا گیا تھا اور جب ان کا تختہ الٹنے کے بعد ان پر اس کا مقدمہ چلایا گیا تو انہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔اور اس کے بعد انہیں پھانسی دے دی گئی۔اس بات کا ذکر پہلے بھی آچکا ہے کہ جب پہلے دن اسمبلی میں جماعت احمدیہ کے خلاف ہونے والے فسادات پر بحث ہوئی تو وزیر اعظم کے سے ایسا جملہ نکلا تھا جو ان کے خلاف اس مقدمہ قتل کے دوران بار بار پیش کیا گیا اور جب جماعت احمدیہ کا وفد آخری روز سوالات کا جواب دے رہا تھا تو ایک ایسے شخص نے ، یہ دعویٰ کیا کہ مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے ، جس کو قتل کروانے کی کوشش کے الزام میں ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو سزائے موت دی گئی۔جب کارروائی شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل صاحب کی بجائے مولوی ظفر احمد انصاری صاحب نے سوالات کرنے شروع کئے۔کچھ پرانے حوالوں پر بات کرنے کے بعد مولوی ظفر احمد انصاری صاحب نے اس الزام کے متعلق سوالات شروع کیے کہ نعوذ باللہ احمدیوں نے قرآنِ کریم میں تحریف کی ہے۔اس کے ساتھ یہ بات بھی سامنے آئی کہ چیئرمین کمیٹی اور اٹارنی جنرل اس بات پر کچھ زیادہ آمادہ نہیں دکھائی دیتے تھے کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث" کے علاوہ اور کوئی ممبر وقد کسی سوال کا جواب دے۔حضرت خلیفۃ المسیح