دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 485
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 485 سوال اُٹھایا کہ جب پہلی جنگ عظیم کے دوران بغداد پر انگریزوں کا قبضہ ہوا ہے تو قادیان میں چراغاں جلائے گئے تھے کہ نہیں۔یہ اعتراض بھی بار بار کیا جاتا ہے کہ جب پہلی جنگ عظیم میں انگریز افواج نے بغداد پر قبضہ کیا تو قادیان میں چراغاں کیا گیا تھا۔پہلی بات یہ ہے کہ چراغاں بغداد کی فتح پر نہیں ہوا تھا بلکہ جب اتحادیوں نے جرمنی کو شکست دی ہے اور پہلی جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا ہے اس وقت ہوا تھا۔بغداد پر قبضہ مارچ 1917ء میں اور پہلی جنگ عظیم کا خاتمہ 1918ء کے آخر میں ہوا تھا اور صرف قادیان میں نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں کئی مقامات پر یہ چراغاں کیا گیا تھا لیکن یہ اعتراض اُٹھانے والے اپنی دانست میں بہت بڑا اعتراض اُٹھاتے ہیں۔جب ہم نے انٹرویو کے دوران صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب سے اس سوال کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے یہ سوال یاد ہے اور یہ سوال کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ احمدیوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے علیحدہ رکھا ہے اور مسلم دنیا کے ساتھ منسلک نہیں ہوتے تھے۔اس لئے اس کے Downfall کو Welcome کیا۔پہلی بات یہ ہے کہ جب جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا تو ترکی کی سلطنت عثمانیہ پہلے ہی شکست ہو چکی تھی اور اس موقع پر ترکی کی شکست پر نہیں بلکہ جرمنی کی شکست پر جشن منایا گیا تھا اور اگر ہم یہ معیار تسلیم کرلیں کہ پہلی جنگ عظیم میں جس کی ہمدردیاں انگریزوں کے ساتھ تھیں وہ اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ رکھنا چاہتا تھا اور یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کو قانونِ پاکستان میں غیر مسلم قرار دینے کی ایک وجہ بن سکتا ہے تو ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ پہلی جنگ عظیم کے دوران ہندوستان کے مسلمانوں میں سے کس کس کی ہمدردیاں انگریزوں کے ساتھ تھیں۔پھر اسی کلیہ کی رو سے یہ بھی مانا پڑے گا کہ ان کے متعلق بھی یہی خیالات روا رکھے جائیں۔