دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 465
465 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ملاحظہ کیجئے اس وقت جماعت کے مخالفین یہ اعتراض اُٹھا رہے تھے کہ احمدی کیوں مسلم لیگ میں شامل ہوتے ہیں اور اب یہ دعویٰ کر کے اعتراض کیا جا رہا تھا کہ احمدیوں نے اس وقت اپنے آپ کو مسلم لیگ سے علیحدہ رکھا تھا۔جب یہ ذکر بڑھتا ہوا فرقان بٹالین کے ذکر تک پہنچا تو یہ صاف نظر آ رہا تھا کہ سوالات کرنے والوں نے جو تاثرات قائم کرنے کی کوشش کی تھی وہ اس ٹھوس بیان کے آگے دھواں دھواں ہو کر غائب ہو رہے تھے۔جب پاکستان خطرے میں تھا تو سب سے پہلے پاکستانی احمدیوں نے رضا کارانہ طور پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔آج اسمبلی میں جو جماعتیں سب سے زیادہ جماعت احمدیہ کی مخالفت میں پیش پیش تھیں، اس وقت ان میں سے کسی کو بھی یہ توفیق نہیں ہوئی تھی کہ اپنے ملک کے دفاع کے لئے آگے آتی۔اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ آپ سے یہ سوال نہیں کیا گیا۔اس طرح باہر کی باتیں آ جائیں گی۔حضور نے اس پر فرمایا کہ ٹھیک ہے۔میں یہ بیان بند کر دیتا ہوں۔لیکن حقیقت یہ تھی کہ جماعت احمدیہ پر جس قسم کے اعتراضات کیے گئے تھے ان کے پیش نظر یہ تفصیلات بیان کرنا ضروری تھیں اور جب آخر میں اس وقت جب کہ جماعت کا وفد موجود نہیں تھا تو جماعت کے مخالفین نے فرقان بٹالین کے حوالے سے کافی اعتراضات اُٹھائے۔انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ یہ اعتراض اس وقت اُٹھائے جاتے جب جماعت کا وفد وہاں موجود تھا تاکہ ان کا جواب بھی دیا جاسکتا۔پھر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے موقف کی وضاحت کے لیے ان کا بیان کرنا ضروری ہے تو آپ بیان کر دیں۔اس پر حضور نے اہل کشمیر کے لیے جماعت احمدیہ کی بے لوث خدمات کا خلاصہ بیان فرمایا۔اس کے بعد