دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 456 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 456

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 456۔گورنمنٹ کو خوب معلوم ہے اور گورنمنٹ اور مسلمانوں کے ایڈووکیٹ اشاعۃ السنہ نے گورنمنٹ کو بارہا جتا دیا ہوا ہے کہ یہ شخص در پردہ گورنمنٹ کا بد خواہ ہے۔۔صاف ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے جملہ مخالفین مذہب کے مال و جان کو گورنمنٹ ہو خواہ غیر معصوم نہیں جانتا اور ان کے تلف کرنے کی فکر میں ہے۔دیر ہے تو صرف جمعیت و شوکت کی دیر ہے۔“ اشاعۃ السنہ جلد 18 نمبر 5 ص 152) اب پڑھنے والے خود دیکھ سکتے ہیں کہ جب انگریز حکمران تھا تو اس وقت یہ مخالف اس حکومت کو درخواستیں جمع کرا رہے تھے کہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی آپ کے خلاف بغاوت کی تیاری کر رہے ہیں۔اور جب انگریز چلا گیا تو اب یہ راگ الاپا جا رہا ہے کہ ان کو کھڑا ہی انگریز حکومت نے کیا تھا۔جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔اس روز جب دوپہر کا وقفہ ہوا تو سپیکر صاحب نے اس بات کا شکوہ کیا کہ کورم ہی پورا نہیں ہوتا اور کورم پورا کرنے میں دو دو گھنٹے لگ جاتے ہیں۔حالانکہ تقریبا ڈیڑھ سو کی اسمبلی میں کورم پورا کرنے کے لئے صرف چالیس ممبران کی ضرورت تھی۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام دعووں کے باوجود حقیقت میں ممبران کو اس کارروائی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔فیصلہ تو پہلے کے بیٹے تھے۔وقفہ کے بعد حضرت خلیفة المسیح الثالث " نے مشہور شیعہ عالم علی حائری صاحب کا ایک حوالہ پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے سلطنت برطانیہ کی تعریف کرنے کے بعد اس سلطنت کے لئے دعا کی تحریک کی تھی اور کہا تھا کہ بادشاہ کا یہ حق ہے کہ رعیت اس کی تعریف میں ہمیشہ رطب اللسان رہے اور کہا تھا کہ رسول اللہ صلی المی یوم نے بھی تو نوشیروان کے عہد سلطنت میں ہونے میں فخر کا اظہار فرمایا تھا۔