دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 447
447 اس پر دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری حضور نے ایک بار پھر ان کے موقف کی بو العجبی واضح کرنے کے لئے فرمایا:۔”جبر کے ساتھ وہیں یہ لکھا ہوا ہے۔“ یحیی بختیار صاحب نے اب جان چھڑانے کے لئے جماعت کے موقف کا ذکر شروع کیا اور کہا ” نہیں آپ کا concept تو یہ ہے ناں جی کہ جبر کے ساتھ نہیں ہو گا تبلیغ سے ہو گا۔66 یقینا جماعت احمدیہ کا موقف یہی ہے اور ہر ذی ہوش کا یہی عقیدہ ہونا چاہیے اور جماعت اس موقف کو سختی سے رڈ کرتی ہے کہ دین کی اشاعت میں جنگ یا جبر کا کوئی دخل ہونا چاہئے۔یہ قرآنِ کریم کی تعلیم اور رسولِ کریم صلی الی یوم کے عظیم اسوہ کے خلاف ہے۔جماعت کے اکثر مخالفین یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اسلام کی اشاعت کا اور تلوار کا بڑا گہرا تعلق ہے۔اس اسمبلی میں جماعت اسلامی کی نمائندگی بھی موجود تھی۔ان کے بانی اور قائد کی زبان میں ان کے خیالات درج کرتے ہیں۔وہ اپنی کتاب الجہاد فی الاسلام“ میں تحریر کرتے ہیں:۔لیکن جب وعظ و تلقین کی ناکامی کے بعد داعی اسلام نے ہاتھ میں تلوار لی۔۔۔66 إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔کسی دھڑلے سے مودودوی صاحب فتویٰ دے رہے ہیں کہ رسولِ کریم صل تعلیم کا وعظ اور آپ کی تلقین ناکام ہو گئے۔جماعت احمدیہ کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ خیال ہی فاسد ہے کہ رسولِ کریم صلی ای کمر کا وعظ اور آپ کی تلقین ناکام ہو گئے۔دنیا کے کسی اسلحہ کسی قوت میں وہ تاثیر وہ برکت وہ اثر نہیں جو کہ آنحضرت صلی نیلم کے ارشادات گرامی میں ہے۔اگر دنیا فتح ہو سکتی ہے تو آپ کے وعظ و تلقین کے اثر اور اُن کی برکات سے ہی ہو سکتی ہے لیکن بہر حال مودودی صاحب کو حق ہے کہ وہ یہ عقیدہ رکھیں مگر اس کی صحت کو پرکھنے کے لئے ہم قرآنِ کریم کو معیار بناتے ہیں۔