دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 443
443 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جب اس موضوع پر بات آگے بڑھی تو حضرت خلیفة المسیح الثالث نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ تعلیمات پیش فرمائی ہیں کہ یہ نظریہ جس کا عیسائی مناد اس زور و شور سے پر چار کر رہے ہیں کہ اسلام تلوار اور جبر کے زور سے پھیلا ہے سراسر غلط اور خلاف واقعہ ہے۔اور اسلام نے تو ہر طرح کے مظالم کا سامنا کر کے یہ تعلیم دی ہے کہ لا اکراہ فی الدین یعنی دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر نہیں ہے اور جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے وہ اپنے دعوی میں جھوٹے ہیں کیونکہ اسلام کی تاثیرات اپنی اشاعت کے لئے کسی جبر کی محتاج نہیں ہیں اور یہ خیال بھی لغو ہے کہ اب ایسا کوئی مہدی یا مسیح آئے گا جو تلوار چلا کر لوگوں کو اسلام کی طرف بلائے گا۔اس کے دوران حضور نے فرمایا کہ یہ تصور ہی احمقانہ ہے کہ جبر کے ساتھ عقائد تبدیل کئے جائیں۔اب معلوم ہوتا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب اس بات سے خوش نہ تھے کہ بحث اس روش کی طرف جائے چنانچہ انہوں نے کہا:۔کوئی مسلمان عالم جو ہے وہ جانتا ہے کہ تلوار کے زور سے اسلام کبھی نہیں پھیلایا جا سکتا۔“ وو پھر انہوں نے کہا کہ اس پر تو کوئی dispute ہی نہیں۔اس کے بعد انہوں نے اسی بات کا اعادہ ان الفاظ میں کیا۔اسلام تلوار کے زور سے کوئی پھیلانا چاہتا ہے یہ غلط conception ہے۔سب مسلمان جانتے ہیں کہ اسلام میں 66 defensive war ہے۔' حقیقت یہ ہے کہ دلائل کے دباؤ کی وجہ سے اٹارنی جنرل صاحب خلاف واقعہ دعویٰ کر رہے تھے ورنہ مسلمانوں میں جو غلط اور فاسد خیالات پھیلائے گئے ہیں ، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسلام کی اشاعت میں