دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 442 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 442

442 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اب جماعتِ اسلامی کی مثال لے لیں۔ان کی طرف سے یہ اعتراض بارہا کیا گیا کہ احمدی جہاد یعنی قتال کے قائل نہیں ہیں۔انگریز ابھی ہندوستان پہ حکمران تھا کہ جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی جا چکی تھی۔اور جماعت اسلامی کا اعلان ہی یہ تھا کہ وہ ملک میں حکومت الہیہ قائم کرنے کے لئے کھڑی ہوئی ہے۔اور جب اسی دور میں ان کے بانی مودودی صاحب نے اپنے لائحہ عمل کا اعلان کیا تو اس کے الفاظ یہ تھے:۔”جماعت کا ابتدائی پروگرام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ایک طرف اس میں شامل ہونے والے افراد اپنے نفس اور اپنی زندگی کا تزکیہ کریں اور دوسری طرف جماعت سے باہر جو لوگ ہوں (خواہ وہ غیر مسلم ہوں یا ایسے مسلمان ہوں جو اپنے دینی فرائض اور دینی نصب العین سے غافل ہیں ان کو بالعموم حاکمیت غیر اللہ کا انکار کرنے اور حاکمیت رب العالمین کو تسلیم کرنے کی دعوت دیں۔اس دعوت کی راہ میں جب تک کوئی قوت حائل نہ ہو، ان کو چھیڑ چھاڑ کی ضرورت نہیں۔اور جب کوئی قوت حائل ہو ، خواہ کوئی قوت ہو ، تو ان کو اس کے علی الرغم اپنے عقیدہ کی تبلیغ کرنی ہو گی۔اور اس تبلیغ میں جو مصائب بھی پیش آئیں ان کا مردانہ وار مقابلہ کرنا ہو گا۔66 (مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوئم صفحہ آخر) پڑھنے والے خود دیکھ سکتے ہیں کہ جب انگریز حکومت ہندوستان میں موجود تھی اس وقت تک جماعت اسلامی کا مسلک یہی تھا کہ اگر تو تبلیغ کی راہ میں کوئی قوت حائل نہیں تو کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ تک نہیں کرنی۔اور اگر قوت حائل بھی ہو تو اس کو تبلیغ کرو اور بس۔یہ واضح طور پر اس بات کی ہدایت ہے کہ تم نے قتال نہیں کرنا۔