دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 407
407 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری مرحلہ پر سپیکر صاحب اس اجلاس سے اُٹھ کر باہر چلے گئے اور ان کی جگہ اشرف خاتون عباسی صاحبہ نے اجلاس کی صدارت شروع کی۔اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے ان غلط حوالوں پر کوئی وضاحت پیش کرنا مناسب نہیں سمجھا مگر قاضی اکمل صاحب کے شعر پر طویل سوال و جواب کیے۔پھر انہوں نے اپنی توجہ خطبہ الہامیہ کی طرف کی اور یہاں بھی وہی غلطی دہرائی جو اب تک کمیٹی کی طرف سے کیے جانے والے سوالات کا خاصہ رہی تھی۔اٹارنی جنرل صاحب نے مخطبہ الہامیہ کا حوالہ پڑھنے کی کوشش شروع کی لیکن آغاز میں ہی کچھ گڑبڑا گئے۔انہیں یقین نہیں تھا کہ صفحہ نمبر کون سا ہے۔انہوں نے ایک کی بجائے دو صفحہ نمبر پڑھے۔پھر حوالے کے معین الفاظ پڑھنے کی کوشش ترک کی اور صرف عمومی طور پر یہ کہا کہ خطبہ الہامیہ میں مرزا صاحب نے کہا ہے کہ اسلام ابتدائی حالت میں ہلال کے چاند کی طرح تھا اور مرزا صاحب نے اپنے دور کو چودہویں کا چاند قرار دیا ہے۔اعتراض کا لب لباب یہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے گویا نعوذ باللہ اپنے آپ کو آنحضرت صلی نام سے افضل قرار دیا ہے۔ابھی اس پر بات جاری تھی کہ پیکر صاحب نے یہ کہہ کر وقفے کا اعلان کیا کہ شام کے اجلاس میں حضور کو اس کا حوالہ دکھا دیا جائے۔وقفہ ہوا اور ختم ہوا۔وقفہ کے بعد حضور نے فرمایا کہ ہم نے خطبہ الہامیہ کا جو صفحہ نمبر بتایا گیا تھا اس پر اور اس کے آگے پیچھے بھی دو تین صفحات کو چیک کیا ہے مگر یہاں پر تو کوئی ایسی عبارت موجود نہیں۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے فخر سے کہا کہ ہمیں مل گیا ہے اور مولوی ظفر احمد صاحب انصاری سے کہا کہ آپ سنا دیں۔مولوی صاحب شروع ہوئے کہ مرزا بشیر الدین نے ذکر کیا ہے، الفضل قادیان یکم جنوری 1916ء۔۔۔ایک بار پھر نا قابلِ فہم صورت حال در پیش تھی کہ حوالہ خطبہ الہامیہ کا تھا اور اس کی جگہ الفضل کے ایک شمارے سے عبارت پڑھی جارہی تھی جہاں پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر یا تقریر کو Quote ہی نہیں کیا جا رہا تھا اور کہا جا رہا تھا کہ یہ مرزا بشیر الدین محمود احمد نے