دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 391
391 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ”اس انکوائری سے متعلق مجھے دو باتیں اور بھی لکھنی ہیں تا کہ عوام میں جو غلط فہمیاں ہیں وہ دور ہو جائیں۔پہلی بات تو یہ کہ انکوائری اس لئے کروائی گئی کہ عوام میں جو شدید ردِ عمل تھا وہ دور ہو۔۔لیکن جب انکوائری مکمل ہو گئی اور حکومتِ پنجاب کو رپورٹ دے دی گئی تو وہ رپورٹ عوام کے لئے شائع نہیں کی گئی۔کیوں؟ کیا عوام کو انکوائری کا نتیجہ جاننے کا حق نہیں ہے جبکہ انکوائری کروائی ہی عوام کی تسلی کے لئے گئی تھی؟۔۔حکومت کو یہ جان لینا چاہیے کہ ایسی انکوائریز کی رپورٹ جو عوام کی اطلاع کے لئے کروائی گئی ہیں نہ چھاپنا غلط ہے لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ عوام کی طرف سے بھی ایسا کوئی مطالبہ نہیں ہے۔میری رائے میں تو مطالبہ ہو یا نہ ہو، حکومت کو اپنا فرض پورا کرنا چاہیے۔تبھی عوام کو بھی معلوم ہو گا کہ ایسی رپورٹیں چھپنی چاہئیں۔“ جائزہ مصنفہ خواجہ محمد احمد صمدانی ، ناشر سنگ میل پبلیکیشنز لاہور 2004، ص 69 و 70) جب ہم نے جسٹس صدانی صاحب سے دریافت کیا کہ اس انکوائری سے کیا نتیجہ نکلا تھا تو انہوں جو جواب دیا وہ بغیر کسی تصدیق یا تردید کے یا بغیر کسی اتفاق یا اختلاف کے حرف بحرف درج کیا جاتا ہے،انہوں نے کہا۔"Conclude یہ کیا گیا تھا کہ دیکھیں ہر معاشرے میں شریف لوگ بھی ہوتے ہیں غنڈے بھی ہوتے ہیں۔احمدیوں میں بھی غنڈے ہیں۔تو انہوں نے چونکہ ، نشتر میڈیکل کالج کے لڑکوں نے۔۔۔جاتے ہوئے بد تمیزی کی تھی اس لئے انہوں نے یہ organize کیا کہ اس بد تمیزی کا بدلہ لیا جائے۔تو چند غنڈوں نے بدلہ لیا اس میں جماعت احمدیہ یا امیر جماعت احمدیہ کا کوئی تعلق نہیں۔اس میں یہ بات واضح کر دی گئی ہے۔“ یہ بات ہمیں اپنے ایک انٹرویو میں جسٹس صمدانی صاحب نے بتائی۔ٹریبونل کی مکمل رپورٹ کے مندرجات کیا تھے؟ کیونکہ حکومت نے اس رپورٹ کو شائع نہیں کیا اس لئے ہم اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر