دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 379
379 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ بیٹی بختیار صاحب نے کہا کہ حضور نے فرمایا کہ ہم دوسرے فرقوں کو حقیقی مسلمان نہیں سمجھتے۔مبشر حسن صاحب نے کہا کہ یہ کہا گیا کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہیں سمجھتے۔صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب نے کہا کہ یہ کہا گیا کہ ہم باقی مسلمانوں کو مسلمان سمجھتے ہیں لیکن راسخ العقیدہ نہیں سمجھتے۔پروفیسر غفور احمد صاحب نے کہا کہ یہ کہا تھا کہ ہم غیر احمدیوں کو کافر اور دوزخی سمجھتے ہیں۔ان سب حضرات کا باہمی اختلاف بہت واضح ہے اور ایک کا بیان دوسرے کے بیان کو غلط ثابت کر رہا ہے۔اور حقیقت کیا تھی وہ ہم بیان کر چکے ہیں۔اور یہ بات تو مختلف اسلامی فرقوں کے لٹریچر میں عام ہے کہ صحیح اور حقیقی مسلمان صرف ہمارا ہی فرقہ ہے۔جیسا کہ کتاب كَشْفُ الْبَارِى عَمَّا فِي صَحِيحِ الْبُخَارِی میں لکھا ہے فرق اسلامیہ ان کو کہتے ہیں جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اپنے آپ کو اسلام سے منسوب کرتے ہیں خواہ گمراہ ہوں یا صحیح راستے پر ہوں، معتزلہ ، خوارج، مرجئہ کرامیہ ، جہمیہ وغیرہ سب کے سب على التشکیک فرقِ ضاتہ ہیں، صحیح اسلامی فرقہ اہل السنة والجماعة “ ہے جو ” وَمَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابي “ کے مطابق ہے، یہ لقب بھی اسی ارشاد نبوی سے ماخوذ ہے۔“ (کشف الباري عما في صحيح البخاری جلد اول ،افادات شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان مہتمم جامعہ فاروقیہ کراچی، ناشر مکتبہ فاروقیہ ، شاہ فیصل کالونی کراچی ص 558) اس کے بعد چائے کا وقفہ ہوا اور جب سوا بارہ بجے دوبارہ اجلاس شروع ہوا اور ابھی جماعت کا وفد ہال میں نہیں آیا تھا کہ سپیکر صاحب نے ممبران اسمبلی کو مخاطب کر کے ایک نیا انکشاف کیا۔ان کے الفاظ یہ تھے:۔