دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 378 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 378

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 378 والے، ترک نماز کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانے والے کو کافر اور ان کے اعمال کو کفر کہا گیا ہے لیکن یہ اس قسم کا کفر ہے جس سے ایک شخص ملت سے خارج نہیں ہوتا۔اور اس کے بعد مولوی حضرات نے بھی حضرت خلیفة المسیح الثانی سے اسی قسم کے سوالات کئے تھے اور حضور نے مذکورہ بالا اصول کی بنیاد پر ہی ان کے جوابات دیئے تھے۔اور اس بات پر پروفیسر غفوراحمد صاحب کو تو بالکل اعتراض نہیں ہونا چاہئے تھا کیونکہ خود ان کی جماعت کے بانی اور ان کے قائد مودودی صاحب نے تو اس بات پر بہت برہمگی کا اظہار کیا تھا کہ مسلم لیگ ہر آدمی کو جو اپنے آپ کو مسلمان کہے اپنی جماعت کا رکن بنا لیتی ہے۔ان کے نزدیک ہر مسلمان کو حقیقی مسلمان سمجھ لینا بڑی بنیادی غلطی تھی۔چنانچہ وہ اپنی کتاب مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوئم میں لکھتے ہیں۔”ایک قوم کے تمام افراد کو محض اس وجہ سے کہ وہ نسلاً مسلمان ہیں حقیقی معنی میں مسلمان فرض کر لینا اور یہ امید رکھنا کہ ان کے اجتماع سے جو کام بھی ہو گا اسلامی اصول پر ہو گا پہلی اور بنیادی غلطی ہے۔یہ انبوہ عظیم جس کو مسلمان قوم کہا جاتا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے 999 فی ہزار افراد نہ اسلام کا علم رکھتے ہیں،نہ حق اور باطل کی تمیز سے آشنا ہیں ، نہ ان کا اخلاقی نقطہ نظر اور ذہنی رویہ اسلام کے مطابق تبدیل ہوا ہے۔باپ سے بیٹے اور بیٹے سے پوتے کو بس اسلام کا نام ملتا چلا آرہا ہے اس لیے یہ مسلمان ہیں۔“ (مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوئم مصنفہ ابولاعلیٰ مودودی، ناشر دفتر ترجمان القرآن۔درالاسلام۔جمالپور متصل پٹھانکوٹ۔بار سوئم دو ہزار ) تو یہ بات واضح ہے کہ مودودی صاحب کے نزدیک ایک ہزار میں سے 999 مسلمان کہلانے والے حقیقی مسلمان نہیں تھے۔