دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 369 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 369

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 369 جائیں۔وہ خدا کی خاطر ہر بے عزتی کو قبول کرنے کے لئے مستعد ہو اور ہزاروں موتوں کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو اور سب نفسانی تعلقات توڑ دے تو یہ مقام کن کو حاصل ہو سکتا ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ سوال کرنے والے کو عقل کا استعمال کر کے یہ سوچنا چاہئے کہ اگر خدا کی طرف سے ایک مامور آئے اور ایک شخص یا ایک طبقہ اس مامور کا انکار کر دے بلکہ اس کی تکذیب کرے اور پھر بھی اگر وہ ان مدارج عالیہ کو حاصل کر سکتا ہے تو یہ سوال اُٹھتا ہے کہ اس مامور کی بعثت کا مقصد کیا رہ جاتا ہے۔اس سے خدا کے فعل پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اس نے مامور کیوں مبعوث کیا؟ جب کہ اس کے بغیر ہی تمام مدارج حاصل کئے جا سکتے تھے۔اور اس تعریف میں یہ بھی درج تھا کہ ایسا شخص خدا کے سب حکموں کو تسلیم کرتا ہو۔اگر ایک شخص خدا کے ایک مامور کا انکار اور تکذیب کر رہا ہے تو وہ ان لوگوں کے نزدیک اس تعریف کے تحت کس طرح آ سکتا ہے جو اس مامور من اللہ کو برحق سمجھتے ہیں۔(2) جب حضور سے بیٹی بختیار صاحب نے سوال کیا کہ کیا تمام احمدی اس تعریف کے مطابق حقیقی مسلمان ہیں تو حضور نے اس کا جواب نفی میں دیا۔اس تعریف کی رو سے تو حضور نے تمام احمدیوں کو بھی اس مقام کا حامل قرار نہیں دیا۔ظاہر ہے کہ حضور کسی احمدی کو کافر قرار نہیں دے سکتے۔غیر احمدیوں کے بارے میں بھی بات اسی تناظر میں دیکھنی چاہئے۔(3) حضور کا جو جواب ہے اس میں کہیں بھی غیر احمدیوں کو کافر یا غیر مسلم نہیں کہا گیا۔بلکہ الفاظ تو یہ تھے ”غیر احمدی مسلمان ملت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والا اس معیار کا کوئی نہیں“ اس میں ہر گز کافر نہیں کہا گیا بلکہ اس میں تو واضح طور پر یہ کہا گیا ہے کہ غیر احمدی مسلمان بھی ملتِ اسلامیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔اس جملہ میں ہی کئے جانے والے اعتراض کا کافی جواب موجود ہے۔البتہ حضور نے یہ فرمایا تھا یہ معیار جو بیان کیا جا رہا