دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 368
368 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ہم ذرا تفصیل سے اس سوال اور اس جواب کا جائزہ لیں گے۔کیونکہ بہت سے اسمبلی ممبران نے بار بار یہ دعویٰ کیا ہے کہ جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " سے یہ سوال پوچھا گیا کہ آپ غیر احمدیوں کو کیا سمجھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم انہیں مسلمان نہیں سمجھتے، کافر سمجھتے ہیں، جہنمی سمجھتے ہیں اور جب انہوں نے یہ کہہ دیا تو ہم مجبور ہو گئے کہ انہیں بھی کافر کہیں۔یہ بات یا اس سے ملتی جلتی بات تو پوری کارروائی میں شروع سے لے کر آخر تک ،الف سے لے کر ی تک نہیں پائی جاتی۔ہم پہلے اس بات کی بہت سی مثالیں درج کر چکے ہیں کہ جب بھی یہ سوال حضور سے پوچھا گیا ، حضور نے جواب دیا کہ غیر احمدی مسلمان ،ہمارے نزدیک مسلمان اور ملت اسلامیہ کا فرد رہتے ہیں۔بلکہ سوالات کرنے والے نامکمل حوالے اور جزوی تصویر سامنے رکھ کر کئی دن یہ کوشش کرتے رہے تھے کہ حضور ایسی کوئی بات فرمائیں جو موجب اعتراض ہو۔ہر ممبر کو کارروائی کی کاپی ملتی تھی کہ وہ اپنی تسلی کر سکتا ہے بلکہ حکومت کے پاس تو اس کارروائی کا آڈیوریکارڈ بھی ہونا چاہئے۔یہ ممبران تو حکومت سے مطالبہ بھی کر سکتے ہیں کہ اس آڈیو ریکارڈ کو منظر عام پر لایا جائے۔ہاں یہ مندرجہ بالا حصہ دس اگست 1974ء کی کارروائی میں ہے۔اور اسی کو موڑ توڑ کر یہ بیچارے ممبران اپنے اس فیصلے کا جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔پیشتر اس کے کہ ان میں سے کچھ اہم ممبران اسمبلی کے بیانات درج کریں ، پڑھنے والا۔اس سوال اور حضرت خلیفة المسیح الثالث " کے اس جواب میں یہ باتیں تو واضح طور پر دیکھ سکتا ہے۔(۱) سوال یہ تھا ہی نہیں کہ آپ غیر احمدیوں کو مسلمان سمجھتے ہیں کہ نہیں؟ سوال یہ تھا کہ اگر حقیقی مسلمان کی تعریف یہ ہے کہ وہ شخص جو اپنی تمام خواہشوں، ارادوں ، عملی اور ایمانی قوتوں کو خدا کے لئے وقف کر دے یہاں تک کہ وہ خدا تعالیٰ کا ہو جائے۔اور وہ تمام پاک صداقتیں اور پاک معارف جو اس کی سلطنت کے علو مرتبہ کو معلوم کرنے کے لئے ضروری ہیں بخوبی معلوم کر لے۔وہ خدا تعالیٰ کے لئے اور اس کی مخلوق کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف رکھتا ہو اور اپنے تمام وجود کو حوالہ بخدا کر دے۔اس کے تمام جذبات مٹ