دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 353
353 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ابھی مقامی راجہ مہاراجہ حکومت کر رہے تھے۔اس کے متعلق مسلمانوں کے مشہور لیڈر سر سید احمد خان صاحب لکھتے ہیں:۔وو ہماری گورنمنٹ کی عملداری دفعہ ہندوستان میں نہیں آئی تھی بلکہ رفتہ رفتہ ہوئی تھی جس کی ابتداء 1757 ء کے وقت سراج الدولہ کے پلاسی پر شکست کھانے سے شمار ہوتی ہے۔اس زمانے سے چند روز پیشتر تک تمام رعایا اور رئیسوں کے دل ہماری گورنمنٹ کی طرف کھینچتے تھے اور ہماری گورنمنٹ اور اس کے حکام تعہد کے اخلاق اور اوصاف اور رحم اور استحکام عہود اور رعایا پروری اور امن و آسائش سن سن کر جو عملداریاں ہندو اور مسلمانوں کی ہماری گورنمنٹ کے ہمسائے میں تھیں وہ خواہش رکھتی تھیں اس بات کی کہ ہماری گورنمنٹ کے سایہ میں ہوں۔“ (75) اس زمانہ کے حالات کے گواہ، مسلمانوں کے لیڈر اور عظیم خیر خواہ سر سید احمد خان صاحب لکھ رہے ہیں جب کہ خود ہندوستان کے لوگوں کی جن میں مسلمان اور ہندو دونوں شامل تھے یہ خواہش تھی کہ وہ انگریزوں کی حکومت کے تحت آجائیں۔اس دور میں جب کہ پنجاب اور اس کے ساتھ ملحقہ علاقوں میں انگریزوں کی نہیں بلکہ سکھوں کی حکومت قائم تھی۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دورِ حکومت میں تو پھر بھی مسلمانوں کی کچھ اشک شوئی ہوئی ورنہ باقی سکھ فرمانرواؤں کے دور میں مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو اس بُری طرح پامال کیا گیا کہ بعض مسلمان قائدین نے ان کے خلاف اعلانِ جہاد کر دیا۔جن میں ایک نمایاں نام سید احمد شہید صاحب اور مولوی اسماعیل شہید کا ہے۔حضرت سید احمد شہید کا فتویٰ تھا:۔