دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 352 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 352

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 352 کی بہت سی آیت میں یہ لفظ سرکشی اور بغاوت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔یہ دعویٰ بالکل بے بنیاد ہے کہ لفظ صرف زنا اور بد کاری کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔اس کے بعد یہ گھسا پٹا اعتراض دہرایا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انگریز گورنمنٹ کی اطاعت اور ان سے تعاون کا حکم دیا تھا۔اوّل تو اس اعتراض کا اس مسئلہ سے کیا تعلق تھا کہ جس پر غور کرنے کے لیے یہ کمیٹی کام کر رہی تھی۔زیر غور مسئلہ تو یہ تھا کہ جو شخص حضرت محمد صلی لی ایم کو آخری نبی نہیں مانتا محمد اس کا اسلام میں کیا Status ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آج کہ آج سے کئی دہائیاں قبل جب برصغیر میں انگریزوں کی حکومت قائم تھی تو کیا احمدی اس حکومت کی اطاعت کرتے تھے یا نہیں۔کوئی بھی صاحب شعور دیکھ سکتا ہے کہ غیر متعلقہ امور پر سوالات کر کے محض اصل موضوع سے کنارہ کیا جا رہا تھا۔اور یہ سوال قیام پاکستان کے بعد سے اب تک کیا جا رہا ہے۔اگر ایک منٹ کے لیے یہ تسلیم کر لیا جائے کہ جس گروہ نے انگریز حکومت کی اطاعت کی تھی اسے دائرہ اسلام سے خارج کر دینا چاہئے۔یا اگر کوئی گروہ اس وقت انگریزوں کی حکومت سے تعاون کر رہا تھا تو اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ اس نے اپنے آپ کو امتِ مسلمہ سے علیحدہ رکھا ہے۔تو پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ اس وقت کون کون سے گروہ انگریز حکومت کی اطاعت کر رہے تھے اور ان سے تعاون کر رہے تھے۔یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہئے کہ انگریزوں کی حکومت قائم ہونے سے قبل ہندوستان طوائف الملوکی کے ایک خوفناک دور سے گزر رہا تھا۔مغل سلطنت تو اب لال قلعہ کی حدود تک محدود ہو چکی تھی اور اس دورِ خرابی میں ہندوستان میں بالعموم اور پنجاب میں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق بُری طرح پامال کیسے جا رہے تھے اور پنجاب میں تو سکھوں کی حکومت میں مسلمانوں پر وہ وحشیانہ مظالم کئے گئے تھے کہ جن کو پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ان کی مذہبی آزادی مکمل طور پر سلب کی جا چکی تھی۔اس دور میں جب کہ ابھی پورے ہندوستان پر انگریزوں کا غلبہ نہیں ہوا تھا ، اس وقت ان علاقوں کے لوگوں کے خیالات کیا تھے جہاں پر