دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 323 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 323

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 323 وو حضور نے مندرجہ بالا میں سے بہت سے حوالے 9/ اگست کو پڑھ کر سنائے جن سے واضح ہو جاتا تھا کہ ذرية البغايا كا مطلب سرکش اور نافرمان انسان کے کئے جاتے رہے ہیں اور مفتی محمود صاحب جو ترجمہ کر کے سنا رہے تھے وہ بے بنیاد تھا۔اس تحقیق کا معترضین کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔پوچھا: اس کے بعد پھر اٹارنی جنرل صاحب نے وہی پرانا سوال بار بار دہرایا۔مثلاً ایک موقع پر انہوں نے جو اللہ اور رسول صلی للی کم پر ایمان لاتا ہے ان کو مانتا ہے۔اور مرزا غلام احمد صاحب کو نبی نہیں مانتا۔پھر بھی مسلمان رہ سکتا ہے۔“ اس پر حضور نے جواب میں فرمایا۔”غیر مسلم نہیں ہے۔گنہگار ہے وہ۔“ اٹارنی جنرل صاحب بیچارے عجیب مخمصے میں مبتلا تھے۔وہ علمی بحثوں میں پڑنا چاہتے تھے اور اس کارروائی کی نوعیت کا تقاضا بھی یہی تھا لیکن ان کی طبیعت کو اس کام سے کوئی مناسبت نہیں تھی۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اس بات پر بحث اٹھائی کہ اتمام حجت“ کا کیا مطلب ہے۔حضور نے عربی زبان کی رُو سے اس کا مطلب بیان فرمایا۔اب اٹارنی جنرل صاحب نے ایک لغت نوراللغات کا حوالہ پیش کیا۔آغاز میں ہی حضور نے فرمایا کہ یہ تو کوئی معیاری لغت نہیں ہے اور حضور نے معیاری لغت کی مثال کے طور پر منجد، مفردات امام راغب، لسان العرب اور اقرب کے نام بھی لیے۔بہر حال صاحب موصوف نے اپنی چنیدہ لغت سے اس کا مطلب پڑھنا شروع کیا اور کہا کہ اس لغت میں اتمام حجت کا مطلب یہ لکھا ہے: صحت کا پورا کرنا۔کسی معاملہ میں آخری مرتبہ سمجھانے اور معاملہ طے کرنے کی جگہ۔"