دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 307
307 وو دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اب اٹارنی جنرل صاحب نے ایک بار پھر اپنے حواس جمع کئے اور حوالہ پڑھنا شروع کیا اور کہا وہ خوبصورت عورت ہے۔۔۔66 حضور : ” ہاں ،ہاں ، خوبصورت عورت ہے اللہ “ اور اس کو۔۔۔اٹارنی جنرل صاحب: تو ایسی کوئی چیز آپ کے علم میں ہے؟ حضور: میرے علم میں کہیں نہیں۔نہ ہمارے بزرگوں کے علم میں ہے کوئی۔دیکھنا یہ ہے کہ کس نے یہ حوالہ بنایا ہے؟ اب صورت حال واضح ہو چکی تھی۔سپیشل کمیٹی میں جماعت احمدیہ کی طرف سے یہ واضح الزام لگادیا گیا تھا کہ سوالات کرنے والے ایک بار پھر جعلی حوالہ پیش کرنے کا جرم کر رہے ہیں۔چاہئیے تو یہ تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب فوری طور پر معین حوالہ اور اس کا ثبوت دے معین حوالہ اور اس کا ثبوت دیتے تا کہ اس الزام کا داغ ان دیتے تا کہ اس الزام کا داغ ان سے دور ہو لیکن انہوں نے کیا کہا ؟ انہوں نے کہا کہ میں ایک دو حوالے دیکھوں گا اور سپیکر صاحب سے وقفہ کی درخواست کی۔اب ضروری ہو گیا تھا کہ سپیکر صاحب ان کی گلو خلاصی کرائیں تاکہ انہیں مزید شرمندگی نہ اٹھانی پڑے چنانچہ سپیکر صاحب نے وقفہ کا اعلان کر دیا گیا تھا۔اس کے بعد کئی دن یہ کارروائی جاری رہی لیکن اٹارنی جنرل صاحب اور ان کی اعانت کرنے والے مولوی حضرات اس حوالے کا کوئی ثبوت مہیا نہیں کر سکے۔سوا بارہ بجے اجلاس کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی۔ابھی جماعت کا وفد ہال میں نہیں آیا تھا۔پہلے تو سپیکر صاحب نے ارشاد فرمایا کہ دروازہ بند کر دیں۔سب سے پہلے تو مولوی شاہ احمد نورانی صاحب بولے کہ پہلے ان سے (یعنی جماعت کے وفد سے ) معین جواب لیا جائے۔اس کے بعد تشریح وغیرہ کریں لیکن تحریری بیان نہ ہو۔سپیکر صاحب نے انہیں تسلی دلائی تو پھر مفتی محمود صاحب نے اپنے شکوے شروع کئے۔ان کا پس