دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 305 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 305

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 305 ” میں نے کچھ احکامات قضا و قدر کے متعلق لکھے اور ان پر دستخط کروانے کی غرض سے اللہ کے پاس گیا۔انہوں نے نہایت شفقت سے اپنے پاس پلنگ پر بٹھایا۔اس وقت میری یہ حالت ہوئی جیسے ایک بیٹا اپنے باپ سے سالہا سال کے بعد ملتا ہے۔۔۔“ 66 کسی قدر فرق کے ساتھ یہ بیان سیرت المہدی کے موجودہ ایڈیشن کی جلد اوّل کے صفحہ نمبر 75974 پر موجود یہ عبارت پڑھ کر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ ”یعنی وہ خدا کے بیٹے۔یعنی وہ یہ الزام لگا رہے تھے کہ نعوذ باللہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے خدا کے بیٹے ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔یہ ایک نہایت ہی خلاف عقل الزام تھا۔اس کشف کا بیان کرتے ہوئے کہیں خدا کے بیٹے ہونے کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔صرف بیان کیا گیا ہے کہ میری حالت اس وقت ایسی تھی جیسے ایک بیٹا اپنے باپ سے سالہا سال کے بعد ملتا ہے۔یہ بات کسی طرح بھی قابل اعتراض نہیں ہو سکتی۔پھر تو یہ معترضین اس آیت کریمہ پر بھی اعتراض کر دیں گے۔پس جب تم اپنے (حج کے ) ارکان ادا کر چکو تو اللہ کا ذکر کرو جس طرح تم اپنے آباء کا ذکر کرتے ہو بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ ذکر “ ( البقرة : 201) جب اس اجلاس کی کارروائی ختم ہو رہی تھی تو پھر اٹارنی جنرل صاحب نے ایک حوالہ پڑھنے کی کوشش فرمائی۔یہ سمجھ تو کیا آنی تھی کہ وہ اعتراض کیا کرر ہے ہیں لیکن پہلے ہی انہوں نے خود ہی اعلان کیا کہ انہیں صحیح طرح معلوم نہیں کہ یہ حوالہ کہاں کا ہے؟ انہوں نے فرمایا:۔”یہ ایک جگہ اور۔یہ اخبار الفضل سے لیا گیا ہے۔پتہ نہیں کون سا ان کا حوالہ ہے۔وہ میں آپ کو بتا دوں گا۔۔۔66