دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 300
300 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ”ہم نے حضرت فاطمہ کو دیکھا۔انہوں نے ہم کو اپنے سے چمٹالیا ہم اچھے ہو گئے۔“ وو (افاضات الیومیہ تھانوی “ جلد 6 ، بحوالہ ” دیوبندی مذہب“ صفحہ 156)“ اس کے بعد حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مذکورہ کشف کی صحیح تفصیلات بیان فرمائیں اور فرمایا:۔وو تو یہ کشف ہے جس کی طرف ” نزول المسیح میں اشارہ کیا گیا ہے۔اب ظاہر ہے کہ کشف ہے۔جس طرح دوسرے کشوف میں اولیاء امت نے حضرت فاطمۃ الزہراء کے متعلق کشوف دیکھے یا جیسے حضرت امام ابو حنیفہ نے بظاہر نہایت بھیانک کشف دیکھا لیکن اس کی تعبیر کی گئی تو جیسا کہ امت محمدیہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ کشوف و رؤیاء کی تعبیر کی جاتی ہے ان پر اعتراض نہیں کیا جاتا ، اس کشف کی بھی تعبیر ہونی چاہئیے اور تعبیر اس کی اس کے اندر واضح ہے کیونکہ جیسا کہ ابھی میں نے بتایا ہے اس کشف میں پانچ وجود آپ کے سامنے آئے اور ان کی موجودگی میں جن میں نبی اکرم صلی لی لی اور سارے کھڑے ہوئے تھے ” مادر مہربان کی طرح میرا سر اپنی ران کے ساتھ لگایا“ کا مطلب ہے کہ کشف میں خود کو بہت چھوٹے بچے کی طرح دیکھا کہ آپ کا سر صرف ران تک پہنچتا تھا۔۔۔“ مة الشرسة جن لوگوں نے یہ اعتراض اٹھایا تھا انہوں نے صحیح عبارت میں تحریف کر کے اٹھایا تھا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے جو جواب دیا گیا ، اس میں علم التعبیر کی تاریخ سے معروف مثالیں دے کر اور اس کشف کی صحیح عبارت پیش کر کے دیا گیا۔ہر پڑھنے والا خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ کس کا طرز عمل قابل مذمت اور کس کا طرز عمل عقل اور اخلاق کے تقاضوں کے مطابق تھا۔اب اٹارنی جنرل صاحب نے جو یہ دیکھا کہ جو تاثر وہ پیدا کرنا چاہتے تھے اس سے تو الٹ نتیجہ برآمد ہو رہا ہے تو انہوں نے اس موضوع کو بدلنے کے لیے گفتگو کا رُخ وحی کے موضوع کی طرف کیا لیکن ان کی ساری