دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 274 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 274

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 274 (روحانی خزائن ، جلد 11،ص13) ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ یہ الفاظ خدائی کا دعویٰ کرنے والے اس خیالی یسوع کے بارے میں ہیں جس کا دعویٰ انجیل کرتی ہے جبکہ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے پیمبر حضرت عیسی علیہ السلام کا تعلق ہے تو اس کا ذکر قرآنِ کریم میں موجود ہے اور یہ حقیقی حضرت عیسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کئے گئے۔اور انجیل میں یسوع کے متعلق بیان کردہ حالات کا ذکر بھی کیوں کرنا پڑا اس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی کتاب میں تحریر فرماتے ہیں:۔بالآخر ہم لکھتے ہیں کہ ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی۔انہوں نے ناحق ہمارے نبی صلی اللہ ملک کو گالیاں دیگر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔چنانچہ اسی پلید نالائق فتح مسیح نے اپنے خط میں جو میرے نام بھیجا ہے آنحضرت صلی الی یوم کو زانی لکھا ہے اور اس کے علاوہ اور بہت گالیاں دی ہیں۔پس اسی طرح مردار اور خبیث فرقہ نے جو مردہ پرست ہے ہمیں اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ ہم بھی ان کے یسوع کے کسی قدر حالات لکھیں اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور حضرت موسیٰ کا نام ڈاکو اور بٹار رکھا اور آنے والے مقدس نبی کے وجود سے انکار کیا اور کہا کہ میرے بعد سب جھوٹے نبی آئیں گے۔66 (روحانی خزائن جلد 11ص293) یہ عبارت اس بات کو بالکل واضح کر دیتی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت عیسی علیہ السلام کا ذکر نہیں ہو رہا بلکہ اس فرضی وجود کے حالات کا ذکر ہو رہا ہے جس نے پادریوں کے مطابق خدائی کا دعویٰ کیا تھا۔