دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 261 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 261

261 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری the Muslims areas on the basis of property or superior economic status is to nullify the very idea of Pakistan, and will have to be rejected as fundamentally wrong۔اب کتنا صاف ظاہر ہے کہ جماعت احمد یہ تو ہر طرح مسلم لیگ کے موقف کی تائید کر رہی ہے۔اور جب اس کمیشن کے ایک جج جسٹس تیجا سنگھ صاحب نے سوال پوچھا What is the position of the Ahmadiyya community as regards Islam۔احمد یہ جماعت کا اسلام سے کیا تعلق ہے یا ان کی مسلمان ہونے کے بارے میں کیا پوزیشن ہے؟ تو اس پر جماعت احمدیہ کے نمائندہ مکرم شیخ بشیر احمد صاحب نے اس کا جو جواب دیا اس کا پہلا جملہ یہ تھا They claim to be Mussalmans first and Mussalmans last۔They are part of Islam۔یعنی وہ شروع سے لے کر آخر تک مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور وہ اسلام کا حصہ ہیں۔ان چند مثالوں سے یہ صاف نظر آتا ہے کہ یہ الزام بالکل غلط ہے کہ باؤنڈری کمیشن میں احمدیوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ گروہ کے طور پر پیش کیا تھا۔نہ صرف جماعت احمدیہ نے مسلم لیگ کے موقف کو مضبوط کرنے کے لئے یہ میمورنڈم پیش کیا تھا بلکہ اس وقت مسلم لیگ بھی اس کمیشن کے روبرو بہت زور دے کر یہ موقف پیش کر رہی تھی کہ وہ احمدی مسلمانوں کا ایک فرقہ ہیں اور انہوں نے مکمل طور پر پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور قادیان ان کا مقدس مقام ہے۔اس لئے ضلع گورداسپور کو پاکستان میں ہی شامل ہونا چاہیے۔مسلم لیگ بٹالہ نے جو میمورنڈم پیش کیا تھا اس میں بہت زور دے کر یہ نکتہ بیان کیا گیا تھا۔(The Partition of the Punjab, Vol 1, published by Sang e Meel Publication p472)